ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 537
لیک ڈیف 537 اور بے اختیار از خود ہی نکلنے لگتا ہے۔وہ عضلات جو پیشاب کو کنٹرول کرتے ہیں سردی کی وجہ سے بے حس ہو جاتے ہیں اور ان میں وقتی طور پر فالبی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔کاسٹیکم میں بھی یہ علامت ہے لیکن اس میں مستقل فالج کی وجہ سے یہ علامت پیدا ہوتی ہے۔کالی کا رب میں بھی پیشاب پر سے کنٹرول اٹھ جاتا ہے اور رفتہ رفتہ یہ تکلیف بہت بڑھ جاتی ہے۔لیک ڈیف میں یہ کیفیت عارضی ہوتی ہے۔جب سردی ختم ہو جائے تو مریض واپس اپنی اصل حالت پر لوٹ آتے ہیں۔حیض کے دوران کمر میں درد ہو تو اس میں بھی لیک ڈیف کارآمد دوا ہے۔اس کی مریضہ اگر حیض کے دوران سخت ٹھنڈے پانی میں ہاتھ ڈالے تو حیض فورا رک جائے گا اور کوئی دوسرا عارضہ لگ جائے گا۔اس لئے ایسی مریضاؤں کو احتیاط کرنی چاہئے اور حیض کے دوران سرد پانی کے استعمال سے احتراز کرنا چاہئے۔لیک ڈیف دل کی تکلیفوں میں بھی مفید ہے۔دل کی کمزوری یا تنگی کی وجہ سے دمہ (Cardiac Asthma) ہو جاتا ہے۔سانس لینے سے دل پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔یہی علامت سپونجیا میں اپنی مخصوص شکل میں پائی جاتی ہے۔(دیکھیئے سپونجیا ) لیک ڈیف کے مریضوں میں بعض دفعہ سارا ہاتھ نہیں بلکہ صرف انگلیاں ٹھنڈی ہوتی ہیں اور کسی طرح گرم ہونے میں نہیں آتیں۔اس کی ایک استثنائی علامت یہ ہے کہ سر درد کو سخت سردی محسوس ہونے کے باوجود ٹھنڈک ہی سے آرام آتا ہے اور یہ علامت فاسفورس سے مشابہ ہے۔فاسفورس کا مریض سردی کے شدید احساس کی وجہ سے جسم کو گرم کپڑوں میں لیٹے رکھتا ہے لیکن سرکو ٹھنڈا رکھنا چاہتا ہے اور سردی کے احساس کے بغیر کسی چیز سے اسے تسکین نہیں ملتی۔اس علامت کے علاوہ فاسفورس کی دیگر علامات لیک ڈیف سے بہت مختلف ہیں۔طاقت: CMC30