ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 510
کالی فاس 510 بھی کالی فاس اچھا اثر دکھاتی ہے۔میگ فاس میں زود حسی کے علاوہ بعض اور بھی محرکات ہوتے ہیں جن کی وجہ سے شیخ ہوسکتا ہے۔ٹائیفائیڈ کے نتیجہ میں منہ میں گہرے زخم ہو جاتے ہیں۔زبان گندی اور بہت بد بودار ہو جاتی ہے۔کالی فاس میں بھی یہ علامات پائی جاتی ہیں۔جب دفاعی طاقتیں جواب دے جائیں تو جسم میں عفونت پھیل جاتی ہے اور زبان پر پھپھوندی لگ جاتی ہے۔کالی فاس اس بیماری میں بہت اچھی دوا ہے۔کالی فاس میں ایک اور علامت یہ پائی جاتی ہے کہ بھوک لگتی ہے لیکن کھانا کھانے کو دل نہیں چاہتا۔عام طور پر یہ بہت حساس لوگوں کا مرض ہے۔وہ نو جوان بچے اور بچیاں جو بہت دبلے پتلے ہوتے ہیں اور لوگ انہیں چھیڑتے ہیں۔وہ بہت حساس ہو جاتے ہیں اور کھانے کے خلاف رد عمل دکھانے لگتے ہیں۔جس چیز کی ضرورت ہو وہی استعمال نہیں کرتے۔ایسے مریض جو زیادہ حساس ہونے کی وجہ سے بھوک نہ لگنے کی بیماری (Anorexia) میں مبتلا ہو جائیں ، ان میں کالی فاس سب سے اچھی دوا ہے۔شروع میں 6x میں کالی فاس استعمال کرانی چاہئے۔جب کچھ فائدہ ہو جائے تو ایک خوراک اونچی طاقت میں دینے سے حیرت انگیز اثر ظاہر ہوتا ہے۔جگر یا معدے کی خرابی سے بھوک مٹ جائے تو نکس وامیکا بہترین دوا ہے۔نکس وامیکا کی نیند کی علامت بھی کالی فاس سے ملتی ہے۔کافی اور چائے وغیرہ پینے سے نیند اڑ جائے یا ذہن میں ہیجانی کیفیت پیدا ہو تو نکس وامیکا اس کا علاج ہے لیکن اگر اعصابی اکساہٹ کی وجہ سے نینداڑے تو کالی فاس کو اولیت دینی چاہئے۔کالی فاس اور آرسنگ ایسی دوائیں ہیں جن کے مریض صاف ستھرے اور صفائی پسند ہوتے ہیں لیکن جب بیماری سخت حملہ کرے یا بخار ہو جائے تو مریض کے اخراجات میں سخت بد بو پیدا ہو جاتی ہے۔چونکہ بد بودار اور بھی بہت سی دواؤں کے مزاج میں ہے۔اس لئے ہر مریض میں محض اس علامت پر انحصار نہیں کرنا چاہئے۔جو امراض چھوت اور جراثیم وغیرہ سے پیدا ہوتی ہیں ان کے مادے ہمیشہ بد بودار ہوتے ہیں۔ایسے مریضوں کی شفا میں کالی فاس کو اونچا مقام حاصل ہے۔6x میں فیرم فاس اور کالی فاس ملا کر دن میں