ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 490 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 490

490 کالی بائیکروم زردی پائی جاتی ہے۔زبان کہیں کہیں سے میلی ہوتی ہے اور اس بیماری کی ایک خاص چمک سی ہوتی ہے جو عام صحت مند زبان پر دکھائی نہیں دیتی۔بعض دفعہ زبان کے اندر گلے کی نالی کے قریب چھوٹے چھوٹے ابھار بن جاتے ہیں جو سٹرابری (Strawberry) کی طرح کی شکل اور رنگت رکھتے ہیں اور ان کا کھردرا پن گلے کو محسوس ہوتا ہے۔زبان کے السر میں بھی بہت مفید دوا ہے۔دانتوں کی جڑوں اور گالوں کے اندرونی حصوں میں بھی السر بننے کا رجحان ہوتا ہے۔گلے کی سوزش کے ساتھ زخم بن جاتے ہیں اور گلے کا درد ناک کی نالی اور نچلی جھلیوں میں بھی پھیل جاتا ہے۔اس کا درد عموماً ایک جگہ تک ہی محدود ہوتا ہے مگر گلے کی دکھن کا احساس وسیع دائرہ میں پھیل جاتا ہے۔کالی بائیکروم کی ورموں سے ملتی جلتی ورموں کی دیگر نمایاں دوائیں یہ ہیں۔لیکیس، کالی آیوڈائیڈ، نائیٹرک ایسڈ ، فاسفورس اور سلفیورک ایسڈ۔کالی بائیکر دوم میں السر بننے کا رجحان بہت زیادہ ہوتا ہے۔گلے کے غدود پھول جائیں تو درد کے علاوہ اتنے متورم ہو جاتے ہیں کہ گلے کے باہر گردن پر بھی ورم نمایاں ہو جاتی ہے اور سرخی بھی پائی جاتی ہے۔گلے میں بال کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے۔ٹیر مینٹولا میں بھی ہر جگہ اس قسم کے احساسات پائے جاتے ہیں۔ہیپر سلف میں کسی چیز کے چپکنے کا احساس پایا جاتا ہے۔زبان کی جڑ کے قریب علامات سمٹ جاتی ہیں اور بہت شدید درد ہوتا ہے۔وہاں ایسے زخم ہوتے ہیں جو نظر نہیں آتے۔متلی اور قے کا رجحان:-قے میں غیر ہضم شدہ خوراک نکلتی ہے جس میں صفراء کے علاوہ خون کی آمیزش بھی ہوتی ہے۔بلغم بھی نکلتی ہے جو لیس دار دھاگے کی طرح ہوتی ہے۔ہے۔شراب کے رسیا لوگوں کی متلی کے لئے یہ چوٹی کی دوا بیان کی جاتی کالی بائیکروم بڑی آنت کے زخموں یعنی Ulcerative Colitis میں بھی فائدہ مند ہوسکتی ہے۔یہ بہت ضدی بیماری ہے۔ابھی تک اس کا نمایاں طور پر مؤثر علاج دریافت نہیں ہو سکا۔معدے کے نزلہ میں بھی کالی بائیکر وم مفید ہے۔سردی لگنے سے معدہ میں کمزوری اور نقاہت کا احساس ہوتا ہے اور اخراجات میں بلغم پیدا ہونے لگتی ہے اور