ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 477
اپی کاک 477 نہیں۔آغاز میں ہی جو علامتیں ظاہر ہو کر ان دونوں میں فرق کرتی ہیں انہیں پیش نظر رکھنا چاہئے۔اپی کاک میں مرض جلد ہوگا اور تیزی سے بڑھے گا اور جلد ہی چہرے پر تمازت آ جائے گی لیکن اینٹی مونیم ٹارٹ میں اچھے بھلے کھیلتے ہوئے بچے کو سردی لگے تو آہستہ آہستہ کمزوری ہو گی اور دوسرے دن وہ مرض شروع ہو گا اور آہستہ آہستہ بڑھے گا اور پھر جب ایک دفعہ مرض قبضہ کرلے تو اپی کاک کے مقابل پر علامتیں بہت زیادہ سنگین ہوں گی اور مرض کے خلاف اندرونی دفاع بیدار نہیں ہو گا۔اپی کاک میں مریض کا پورا جسم بیماری سے مقابلے کے لئے جد و جہد کرتا ہے لیکن اینٹی مونیم ٹارٹ کے مریض کا سینہ بلغم سے بھر جائے اور سانس لینے میں دقت ہو تو بھی بلغم کو باہر نکالنے کا رجحان نہیں ہوتا اور مریض بہت تیزی سے بیماری سے مغلوب ہو جاتا ہے۔اگر شروع میں ہی اینٹی مونیم ٹارٹ کو پہچان لیں تو بلا تاخیر شروع کروا دینی چاہیئے۔جب علامات بڑھ جائیں تو بہت خطرناک صورتحال ہو چکی ہوتی ہے۔ان دونوں دواؤں میں ایک اور فرق یہ ہے کہ چونکہ متلی اپنی کاک کا خاصہ ہے اس لئے اگر متلی ہومگر قے نہ آئے تو اس صورت میں اپی کاک کے زیادہ امکانات ہیں۔ہاں متلی کے بغیر یا معمولی متلی سے قے کا رجحان ہوتو یہ اینٹی مونیم ٹارٹ کی علامت ہے سوائے اس کے کہ سینہ بلغم سے بھرا ہوا ہو تو کمزوری کی وجہ سے اس کو باہر نکالنے کی طاقت ختم ہو جاتی ہے۔رحم کی تکالیف میں بھی اپنی کاک مفید ہے۔اگر بکثرت اور بہت زور سے سرخ رنگ کا خون بہے اور متلی بھی ہو تو اس میں اپی کاک اچھا اثر دکھاتی ہے۔ایام حمل کی متلی میں بھی مفید ہے۔وضع حمل کے بعد اگر پلیسنٹا (Placenta) کا کچھ مادہ رحم میں باقی رہ جائے اور مریض میں اپی کاک کی علامتیں ہوں تو اسے خارج کرنے میں یہ مددگار ہوگی۔اس کے نتیجہ میں پر سوتی بخار ہوں تو اس کے لئے سلفر اور پائیر چینم کے ابواب کا مطالعہ کریں۔اپی کاک کا نزلہ ناک میں جڑ پکڑ جاتا ہے۔رات کے وقت ناک بند ہو جاتا ہے اور بہت چھینکیں آتی ہیں۔نزلہ گلے اور چھاتی میں اترتا ہے جس سے سانس گھٹتا ہے اور درد