ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 476 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 476

اپی کاک 476 اپی کاک کے ہر مرض میں متلی ضرور ہوتی ہے۔کھانسی سے بھی متلی ہو جاتی ہے۔اپی کاک جریان خون کی بہترین دوا ہے۔اس میں یکدم بڑے زور سے خون نکلتا ہے۔اپی کاک کے مریض میں جب بھی کہیں سے خون جاری ہو متلی بھی ضرور ہوتی ہے۔مریض پیاس بالکل محسوس نہیں کرتا۔بسا اوقات آرسنک کی طرح کمزوری اور بے چینی بھی پائی جاتی ہے لیکن اس کا مزاج دوسری باتوں میں آرسنک سے مختلف ہے۔ہر تکلیف دورے کی شکل میں آتی ہے۔کمزوری ہوگی تو کمزوری کا دورہ پڑے گا۔سردی لگے گی تو دورے کی شکل میں آئے گی۔خون بہنے کا بھی دورہ پڑے گا اور کچھ عرصہ کے بعد ختم ہو جائے گا۔یہ دورے لمبے نہیں ہوتے۔اس میں مستقل جاری رہنے والی اور آگے بڑھنے والی بیماریاں نہیں ہوتیں البتہ اس میں مرض کے تیزی سے بڑھنے کا امکان ہوتا ہے۔جب بھی کوئی تکلیف شروع ہوتی ہے تو مرض تیزی سے بڑھتا ہے اور جلد ہی چھوڑ بھی دیتا ہے۔اپی کاک کی اعصابی بیماریوں میں تشیخ پایا جاتا ہے۔سیکوٹا اور ڈانسکور یا (Dioscorea) کی طرح اعصابی شیخ میں پیچھے کی طرف اکڑنے کا رجحان ملتا ہے۔اپی کاک معدے کی بہت اچھی دواؤں میں سے ہے۔اگر معدہ میں ہوا کا تناؤ محسوس ہو تو اپنی کاک مفید ہوتی ہے۔ایسی پیچش جس میں پیٹ میں شدید بل پڑیں اور بار بار چانک حاجت محسوس ہو تو اس میں اپی کاک بہت کارآمد ہے۔بچوں کی پیچش میں سبزی مائل آؤں آتی ہے۔بعض دفعہ خون کی آمیزش بھی ہوتی ہے۔متلی اور قے کا رجحان بھی ملتا ہے۔ناف کے چاروں طرف ایسا درد جیسے کسی نے چٹکی بھر لی ہو۔جسم اکڑ جاتا ہے۔ان علامتوں میں اپی کاک مفید ہے۔اپی کاک کا دمہ سے بھی گہرا تعلق ہے۔اس کے دمہ کے مریض پر خون اور بھرے ہوئے چہرے والے ہوتے ہیں جبکہ اینٹی مونیم ٹارٹ کے دمہ کا مریض کمزور اور آخری لمحات پر پہنچا ہوا معلوم ہوتا ہے۔لیکن یہ تقسیم لازمی نہیں ہے۔اگر یہ انتظار کیا جائے کہ مریض اس آخری شکل تک پہنچے اور پھر اینٹی مونیم ٹارٹ استعمال کریں گے تو یہ درست