ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 12
ایکونائٹ 12 ہے۔آٹھ دس قطرے کر ٹیکس Q کے اور صرف ایک دو قطرے ایکونائٹ Q کے پانی میں ملا کر دیں تو اللہ کے فضل سے بہت مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ا یکونائٹ کی زیادہ مقدار خطرناک ثابت ہو سکتی ہے اس لئے احتیاط کرنی چاہئے۔ایسا مریض جس کے دل کے دھڑ کنے کی رفتار معمول سے زیادہ ہو اس کے لئے ایکونائٹ بہت مفید ہے۔بعض دفعہ معدے میں ہوا پیدا ہونے سے یا اعصابی کمزوری کی وجہ سے دل بہت تیزی سے دھڑ کنے لگتا ہے۔نیند بھی نہیں آتی۔اگر کسی چیز کا خوف ہو، کوئی بری خبر سنی ہو یا امتحان دینے کے لئے جانا ہو یا کوئی ابتلاء در پیش ہو تو ہیجان سے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ایکونائٹ 30 ی 200 میں دینے سے دھڑکن معمول پر آجاتی ہے اور طبیعت پر سکون ہو جاتی ہے۔ایکونائٹ بعض ذہنی امراض میں بھی مفید ہے۔صدمے یا مایوسی سے دماغ پر اچانک اثر ہو جائے اور ہر چیز سے بے جا خوف آنے لگے تو بیماری کی ابتداء میں ہی ایکونائٹ استعمال کرنے سے نمایاں فرق پڑتا ہے لیکن اگر بیماری لمبی ہو جائے تو پھر دوسری دوائیں استعمال کروانا چاہئیں جن میں سلفر نمایاں ہے۔سلفر کو ایکونائٹ کی مزمن دوا کہا جاتا ہے۔سلفر کی جو علامات مستقل لمبی بیماریوں میں ملتی ہیں وہ عارضی طور پرا نیکونائٹ میں پائی جاتی ہیں۔روزمرہ کی زندگی میں ایسی بیماری جو جراثیم کے حملہ کی وجہ سے ہو مثلاً باسی غذا کھالی۔جائے جس میں تعفن پیدا ہو چکا ہو اور اس سے اسہال شروع ہو جائیں یا اچانک پیچش لگ جائے، اسی طرح برسات کے موسم میں خونی پیچش جس سے مریض ڈر جائے۔ان سب بیماریوں میں ایکونائٹ مفید ثابت ہوسکتا ہے۔بعض بیماریوں میں مریض خوف سے چیخیں مارتا ہے اور چکر بھی آنے لگتے ہیں۔مثلاً اگر راستہ چلتے ہوئے اچانک کتا جھپٹے تو انسان خوف زدہ ہو جاتا ہے اور اس کا سر گھومنے لگتا ہے۔ایسی حالت میں ایکونائٹ فوری فائدہ دیتا ہے۔اگر آنکھوں میں اچانک سوزش ہو جائے تو بھی ایکونائٹ اور بیلا ڈونا بیک وقت