ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 403
گلونائن 403 نہیں دہرانا چاہئے۔اگر کوئی صحت مند آدمی چھوٹی طاقت میں پانچ پانچ دس دس منٹ کے وقفہ سے گلو نائن استعمال کرے تو چند خوراکوں کے بعد ہی سخت درد سے اس کا سر پھٹنے لگتا ہے اور گلو نائن کی سب علامتیں نمایاں ہو جاتی ہیں۔ہومیو پیتھی کے منکرین کو قائل کرنے کے لئے یہ بہترین طریقہ ہے۔جلسیمیم سے گلو نائن کی ایک اور مشابہت یہ ہے کہ دونوں میں مریض کے ہاتھ پاؤں سخت ٹھنڈے ہوتے ہیں۔فرق یہ ہے کہ جلسیسیم میں بالکل پسینہ نہیں آتا جبکہ گلونائن میں ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہونے کے باوجود پسینہ آتا ہے۔گلونائن کے مریض کی زبان سرخی مائل ہوتی ہے اور منہ خشک لیکن پیاس زیادہ نہیں ہوتی۔تیز بخار کے باوجود پیاس غائب ہو جاتی ہے۔گرم موسم، دھوپ اور آگ کے سامنے تکلیفوں میں اضافہ ہو جاتا ہے اور دھوپ اور گرمی کا احساس صرف سر تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ سارا جسم متاثر ہوتا ہے۔دھڑکن ، سانس میں گھٹن، متلی اور قے پائی جاتی ہیں۔دبانے سے سر درد کو آرام محسوس ہوتا ہے۔پڑھنے سے سردرد میں اضافہ ہوتا ہے۔لفظ چھوٹے محسوس ہوتے ہیں۔ہر چیز آدھی روشن اور آدھی تاریک نظر آتی ہے۔گلونائن میں آنکھوں کے سامنے بجلی سی لہراتی ہے اور ستارے سے چمکتے ہیں۔نیچے جھکنے سے آنکھوں کے سامنے سیاہ نشان آتے ہیں۔آنکھوں میں درد اور دباؤ محسوس ہوتا ہے۔آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں۔آنکھوں میں خون کا اجتماع بڑھ جاتا ہے۔گلونائن کے مریض کی آنکھیں اندر دھنسی ہوئی ہوتی ہیں اور آنکھوں کی رنگت زردی مائل ہوتی ہے۔روشنی سے زودسی ہوتی ہے۔وقتی اندھا پن بھی پیدا ہوتا ہے۔ایک خاص علامت یہ ہے کہ بخار میں مریض کا چہرہ سرخ نہیں ہوتا بلکہ زرد ہو جاتا ہے۔بچوں کے گردن توڑ بخار میں جو خصوصا گرمیوں میں ہو گلونائن مفید ہے۔اس میں گردن پیچھے کو مڑ جاتی ہے۔چہرہ پر شدت کی گرمی اور چمک ہوتی ہے۔آنکھیں کھینچ کر اوپر کو چڑھ جاتی ہیں۔سر اور اوپر کا دھڑ سخت گرم اور نچلا دھڑ ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔بہت