ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 391 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 391

فلورک ایسڈ 391 ہے اور اس کے مثبت اثرات پر اثر انداز نہیں ہوتا۔فلورک ایسڈ میں بال بہت کمزور اور بے جان ہو جاتے ہیں اور کناروں سے پھٹ جاتے ہیں۔نیٹرم میور میں تمام سر پر اثر پڑتا ہے لیکن فلورک ایسڈ میں سر پر کہیں کہیں بال کمزور ہوتے ہیں اور کہیں بالکل صحت مند نظر آتے ہیں یہ پہچان فلورک ایسڈ کو واضح طور پر دوسری ملتی جلتی دواؤں سے ممتاز کر دیتی ہے۔اس لئے ایسی باتوں پر نظر رکھنی چاہئے کیونکہ بعض دفعہ ایسی علامات کی وجہ سے ایک ایسی دوا کی قطعی شناخت ہو جاتی ہے جودوسری ملتی جلتی علامتیں دیکھنے سے ممکن نہیں ہوتی۔ہوشیاری سے تاک میں لگے رہنا چاہئے کہ کوئی ایسی علامت مل جائے جو کسی دوا کی قطعی نشان دہی کر دے پھر باقی تمام بیماریوں کو وہ خود ہی سنبھال لیتی ہے، لمبی چوڑی تفتیش کی ضرورت نہیں پڑتی۔فلورک ایسڈ میں ایک علامت ایسی ہے جو غالباً کسی اور دوا میں نہیں ملتی یعنی اگر پیشاب کی حاجت محسوس ہو اور مریض پیشاب روک لے تو سر میں درد ہونے لگتا ہے۔ایسے سردرد میں گرمی اور تپش بھی محسوس ہوتی ہے اور پیشاب کرنے پر سر در دکو آرام آجاتا ہے۔فلورک ایسڈ ایسے لوگوں کے لئے بھی بہترین دوا ہے جو جنسی بے راہ روی کا شکار ہو جاتے ہیں اور اپنے آپ کو بالکل بے کار اور ناکارہ کر لیتے ہیں لیکن اس کے باوجود بد نظری سے باز نہیں آتے اور نظر بازی کو اپنا پیشہ بنالیتے ہیں۔ایسے لوگوں کے لئے فلورک ایسڈ ، پکرک ایسڈ، لائیکو پوڈیم اور سپیا اپنے اپنے مزاج کے مریضوں میں بہترین ثابت ہوتی ہیں۔اگر مریض پلسٹیلا کا ہو اور اس کا اثر رک جائے تو اس کے بعد سلیشیا یا فلورک ایسڈ کام آتے ہیں۔فلورک ایسڈ نیلی رگوں کے جالے (Vericose Veins) دور کرنے اور اس کے زخموں کو ٹھیک کرنے کی بہترین دوا ہے۔بسا اوقات ویری کوز و نیز دوسری دواؤں سے ٹھیک نہیں ہوتیں۔عورتوں میں بار بار بچوں کی پیدائش سے جو بوجھ پڑتے ہیں اس سے ٹانگوں میں نیلی رگیں ابھر آتی ہیں اور جالے بن جاتے ہیں۔کئی دفعہ ان سے خون