ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 390 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 390

فلورک ایسڈ 390 بیماریوں میں تمام مریضوں کو تقسیم کر دیا ہے۔فلورک ایسڈ میں ان تینوں بنیادی بیماریوں کی علامات پائی جاتی ہیں۔اسی طرح پھیپڑوں میں سلی مادے بھی نسل در نسل انسانی جسم میں منتقل ہوتے رہتے ہیں۔اس کا بیماریوں کی چوتھی قسم سمجھ کر الگ علاج ہونا چاہئے۔فلورک ایسڈ میں سردی اور گرمی کی علامتیں ادلتی بدلتی رہتی ہیں۔رات کے وقت بستر میں تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں۔تپش محسوس ہوتی ہے، نتیجتاً مریض ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارتا ہے۔سلفر میں گرمی کے احساس کے باوجود مریض پانی سے متنفر ہوتا ہے لیکن فلورک ایسڈ والے مریض کو ٹھنڈا پانی پسند ہوتا ہے۔اس لحاظ سے یہ پلسٹیلا سے مشابہ ہے۔پاؤں جلتے ہیں اور مریض بستر سے پاؤں باہر نکالتا ہے۔ہاتھ پاؤں دونوں پسینے سے شرابور ہو جاتے ہیں۔پسینہ میں جلن ہوتی ہے۔انگلیوں کے درمیان پسینہ آنے کی وجہ سے انگلیاں گل جاتی ہیں۔اس میں فلورک ایسڈ بہت مفید دوا ہے۔فلورک ایسڈ کی ایک علامت اسے نیٹرم میور اور سلفر سے ممتاز کر دیتی ہے یعنی فلورک ایسڈ کے مریض چائے اور کافی سے بہت جلد اثر قبول کرتے ہیں اور یہ مشروب ان کے مزاج کے موافق ثابت نہیں ہوتے۔ان سے نیند اڑ جاتی ہے یا دوسری تکلیفیں شروع ہو جاتی ہیں۔نیٹرم میور اور سلفر میں یہ علامت نہیں ملتی۔فلورک ایسڈ کے مریض کی جلد پر پھنسیاں بھی بن جاتی ہیں اور ٹھیک نہیں ہوتیں۔بسا اوقات چہرے پر پھوڑا نکلتا ہے جو پکتا نہیں ہے اور لمبے عرصہ تک تکلیف دیتا ہے۔عام حالات میں ایسے پھوڑوں میں سلیشیا مفید ثابت ہوتی ہے لیکن سلیشیا سب پھوڑوں پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ایسے پھوڑوں میں اگر سلیشیا کے بعد فلورک ایسڈ دی جائے تو وہ زیادہ زوداثر ثابت ہوتی ہے۔جس طرح پلسٹیلا کے بعد سلیشیا کام کرتی ہے اسی طرح اگر سلیشیا کے بعد پلسٹیلا کی بجائے فلورک ایسڈ دی جائے تو مریض میں ایک فیصلہ کن صورت حال ظاہر ہو جاتی ہے یعنی یا تو مریض شفا پا جائے گایا ایسی واضح علامات ظاہر ہو جائیں گی جو کسی نئی دوا کے انتخاب میں مددگار ہوں گی۔اگر سلیشیا کا غلط استعمال ہو جائے تو فلورک ایسڈ اس کے بداثرات کو زائل کر دیتا