ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 304 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 304

304 کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے سر درد میں کام آ سکتے ہیں۔۔سسٹس میں بسا اوقات جلد کے اوپر خارش کی علامتیں نہیں ملتیں بلکہ جلد کے اندر دب جاتی ہیں۔اس لئے جلد میں بے چینی سی اور کچھ رینگنے اور چیونٹیاں چلنے کا احساس ہوتا ہے۔اس سے مریض کے دل کو بھی سخت گھبراہٹ ہوتی ہے اور وہ بار بار دل پر ہاتھ مارتا رہتا ہے۔زیادہ خارش کرنے کے نتیجہ میں یہ دبا ہوا مرض جلد پر ابھر آتا ہے اور چھالے بن جاتے ہیں جنہیں چھیلنے سے خون بہنے لگتا ہے۔ایسے مریض کو سسٹس دینے سے آرام آجاتا ہے لیکن کچھ وقفہ سے دوبارہ دیتے رہنا چاہئے کیونکہ اس کی خارش لمبے علاج کا تقاضا کرتی ہے۔اپنے اثرات کے لحاظ سے یہ اتنی گہری دوا ہے کہ اچھے مستند اور قابل ڈاکٹروں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ چہرے کے دق (Lupus) میں جوقریب لا علاج مرض سمجھا جاتا ہے،اکیلی کافی ثابت ہوئی ہے۔نچلے ہونٹ کے کینسر کے علاج میں بھی اسے بہت شہرت حاصل ہے یہ دوا بہت گہرا اثر رکھنے والی ہے۔سسٹس میں دانتوں اور مسوڑھوں کی علامات سلفر سے بہت ملتی جلتی ہیں لیکن سلفر میں بہت جلن اور چھین پائی جاتی ہے اور دانت گل جاتے ہیں۔سسٹس میں جبڑوں کے عضلات میں کمزوری واقع ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے دانت ڈھیلے ہونے لگتے ہیں لیکن ان میں جلن نہیں ہوتی۔سسٹس کے نزلے میں بھی جلن نہیں بلکہ ناک کے اندر ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے جس سے نزلہ کا آغاز ہوتا ہے۔اگر بر وقت سسٹس دے دی جائے تو نزلہ وہیں رک جائے گا اور آگے نہیں بڑھے گا۔اگر نزلہ شروع ہو جائے ، ناک میں مواد جم جائے اور اس کے اکھڑنے کے بعد جلن پیدا ہوتی ہو تو سسٹس دیں۔آرسنک میں مواد کی موجودگی میں بھی جلن رہتی ہے۔سسٹس میں مادہ باہر نکالنے سے سکون آجاتا ہے۔سانس، زبان، حلق اور گلے میں ٹھنڈ لگتی ہے، خشک اور ٹھنڈی ہوا سے درد ہونے لگتا ہے۔گلاسوج کراس میں پیپ بن جاتی ہے اور گردن میں ورم کی وجہ سے سر ایک طرف کو مڑ جاتا ہے۔مریض جسم کے مختلف حصوں میں سردی محسوس کرتا ہے۔کھانا کھانے سے قبل اور بعد معدہ اور تمام پیٹ میں ٹھنڈک کا