ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page xxxii of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page xxxii

دیباچہ 20 میں بارہ نمکیات ہوتے ہیں جنہیں الیکٹرولائٹ کہتے ہیں۔ایک نظریہ یہ ہے کہ ان نمکیات کے توازن کے بگڑنے کا نام بیماری ہے۔یہ نظریہ بائیو کیمک (Bio-Chemic) نظریہ کہلاتا ہے اور ان کے نزدیک ان بارہ نمکیات کے صحیح استعمال سے ہی ہر قسم کی بیماری قابو میں آسکتی ہے۔اس دعوے میں کچھ نہ کچھ صداقت ضرور ہے مگر اس میں کچھ مبالغہ آمیزی سے کام لیا گیا ہے۔ہومیو پیتھی اور بائیوکیمی میں فرق بائیوکیمی کا دوسرانام Tissue Remedies 12 ہے۔انسانی خون کے نظام میں بارہ کیمیائی مادے(Chemicals) ایک خاص توازن میں پائے جاتے ہیں۔اگر یہ توازن بگڑ جائے تو انسان ضرور بیمار پڑ جاتا ہے۔قانون قدرت کے مطابق بارہ کیمیائی مادوں کا باہم متوازن ہونا ضروری ہے۔یعنی جس مقدار میں اور جس تناسب میں اللہ تعالیٰ نے انہیں خون میں معلق فرمایا ہے وہ تناسب بگڑتے ہی ضرور کسی بیماری پر منتج ہوگا۔بعض دفعہ خطرناک بیماریاں ان نمکیات کا توازن بگڑنے سے نہیں پیدا ہوتیں بلکہ بیرونی وجو ہات مثلاً مہلک جراثیم وغیرہ کے حملہ سے پیدا ہوتی ہیں۔وہ بیماریاں ان نمکیات کا توازن بگاڑنے کا موجب بن جاتی ہیں جو ایک دفعہ بگڑ جائے تو بیماریوں کو مزید بڑھا دیتا ہے اور بسا اوقات مریض کے لئے جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔بائیو کیمک طریق علاج میں اس پر بہت تحقیق ہوئی ہے کہ ان کیمیائی مادوں سے بنائی ہوئی بائیو کیمک دوائیں کس کس بیماری اور کس کس قسم کی مضر علامات کو درست کرنے میں مفید ثابت ہوتی ہیں۔مثلاً جہاں اکثر اعصابی بیماریوں میں کالی فاس مفید بتائی جاتی ہے وہاں اکثر تشنجی بیماریوں میں میگ فاس مفید بتائی جاتی ہے۔بائیو (Bio) کا مطلب ہے زندگی اور کیمک ” کیمیکل کا مخفف ہے۔وہ کیمیکل جو زندگی برقرار