ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page xxxiii
دیباچه 21 رکھنے کے لئے ضروری ہیں، ان میں ایک دوا سلیشیا ہے جو کسی کیمیائی مرکب سے نہیں بلکہ سلیکون (Silicon) سے بنتی ہے جو زمین کا ایک عالمگیر جزو ہے اور ہر مٹی میں پایا جاتا ہے انسانی جسم پر سلیشیا کا زیادہ تر اثر اس طرح ہوتا ہے کہ یہ ہر بیرونی حملے کے خلاف جسم کو متحرک کر دیتی ہے۔اسی دوا سے اونچی طاقت کی ہو میو پیتھک دوائیں بھی بنائی جاتی ہیں۔صرف سلیشیا پر ہی بس نہیں تمام بائیو کیمک ادویہ X طاقت کے علاوہ C طاقت میں یعنی روز مرہ استعمال ہونے والی ہو میو طاقت میں بھی بنائی جاتی اور کامیابی سے استعمال ہوتی ہیں۔بعض معالج سمجھتے ہیں کہ بائیو کیمک دواؤں کی حدود کے اندر رہتے ہوئے وہ ہر بیماری کا علاج کر سکتے ہیں اس لئے یہ ہو میو پیتھی طریق علاج کی ایک الگ شاخ بن گئی ہے جب کہ ہومیو پیتھک معالج سینکڑوں ہومیو پیتھک دواؤں کے علاوہ بائیو کیمک دوائیں بھی استعمال کرتے ہیں۔کسی بیماری کے پیدا ہونے کیلئے ہر گز ضروری نہیں کہ پہلے خون میں موجود بارہ نمکیات کا توازن بگڑے تو اس کے نتیجے میں کوئی بیماری لگے۔ہزاروں بیماریاں ایسی ہیں جو نمکیات کے توازن سے بے نیاز الگ محرکات اور وجوہات سے پیدا ہوتی ہیں۔مثال کے طور پر ٹائیفائیڈ اور پولیو بیرونی جراثیم کے حملے سے ایسے شخس کو بھی لاحق ہو جاتے ہیں جس کا نمکیات کا نظام متوازن ہوتا ہے۔اگر دوسری ہومیو دواؤں سے ٹائیفائیڈ اور پولیو کا صحیح علاج کیا جائے اور اعصاب میں زندگی کی کچھ رمق باقی ہو تو زندگی ان کے خلاف دفاع شروع کر دیتی ہے اور رفتہ رفتہ بیماری کے اثرات مٹنے لگتے ہیں۔ایک تنبیہ ایک امر سے میں یہاں تمام معالجین کو متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ بائیو کیمک ادویات کا مسلسل استعمال خون کا وقتا فوقتا تجزیہ کرائے بغیر انتہائی خطرناک نتائج کا حامل بھی ہوسکتا ہے اور ان کا اندھا دھند استعمال نمکیات کا توازن درست کرنے کی بجائے انہیں حد سے زیادہ بگاڑ بھی سکتا ہے۔ایسی