ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page xxviii of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page xxviii

دیباچه 16 کس قسم کے مریضوں اور اور بیماریوں میں کون کون سی پوٹینسیاں استعمال ہونی چاہئیں۔معدے کی تکالیف میں نسبتاً چھوٹی پوٹینسیاں زیادہ اثر کرتی ہیں۔اعصابی تکالیف ہوں تو 200 یا زیادہ اونچی طاقتوں کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔گہری نفسیاتی بیماریوں میں بڑی پوٹینسی میں فائدہ ہوتا ہے۔کینسر کی بعض قسموں میں زیادہ اونچی طاقت دینی پڑتی ہے۔لیکن بعض مریضوں کی حالت اتنی بگڑ چکی ہوتی ہے کہ ان کو اونچی طاقت دینا ان کے لئے زہر ثابت ہوتا ہے۔ہلے رفتہ رفتہ ان کی جسمانی حالت کو اعتدال پر لانے کی کوشش کرنی چاہیے اور مناسب غذا اور وٹامنز کے استعمال سے بھی استفادہ کرنا چاہیے۔جب مریض میں رد عمل برداشت کرنے کی طاقت پیدا ہو جائے تو پھر میں طاقت سے علاج شروع کر کے طاقتوں کو تدریجا بڑھایا جا سکتا ہے۔ایک دوسرے کی دشمن دواؤں کو کبھی اکٹھا نہیں دینا چاہیے یہ تو تیز گرم چائے میں آئس کریم ملانے والی بات ہے۔اگر چہ کینٹ نے بعض دواؤں کے استعمال میں لاکھ طاقت سے بہت ڈرایا ہوا ہے۔ان میں خصوصیت سے سلیشیا (Silicea) شامل ہے حالانکہ سلیشیا کو ایڈز اور بعض قسم کے کینسرز میں میں نے لاکھ سے نیچے ہزار تک کی طاقتوں میں مفید ہی نہیں پایا۔ہومیو پیتھی میں اگر دی گئی دوا کا اثر نمایاں نہ ہو تو دو ہی طریقے ہیں۔یا تو دواد ہرادی جائے اور جب دیکھیں کہ بار بار دہرانے سے بھی اثر نہیں ہوتا تو تجربتا اونچی پوٹینسی دے کر دیکھ لینا چاہیے۔دوسرا طریق یہ ہے کہ پوٹینسی وہی رہنے دی جائے اور بیچ میں ایسی دوا دی جائے جور د عمل کو بحال کر دے۔سل کے مریضوں کو سلفر اونچی طاقت میں دینے سے لازماً احتراز کرنا چاہیے۔ان کا علاج ہمیشہ چھوٹی طاقتوں سے شروع کرنا چاہیے۔ہومیو پیتھک دوا کی خوراک (DOSE) پوچھتے ہیں کہ کوئی ہو میو پیتھی دو دن میں کتنی دفعہ اور کتنی مقدار میں کھانی چاہیے؟ اس مسئلے