ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 228
كينيبس- سٹائیوا 228 نگلنے میں تکلیف ہوتی ہے۔مریض سخت تھکاوٹ محسوس کرتا ہے۔گردوں میں سوزش ہو جاتی ہے۔پیشاب قطرہ قطرہ جلن کے ساتھ بار بار آتا ہے۔پیشاب سے فارغ ہونے کے بعد شدید ٹانکہ بھرنے والے درد کا احساس ہوتا ہے۔آخر میں مثانے کی نالی اور پیشاب کا سوراخ اچانک تشیخ کی وجہ سے بند ہو جاتے ہیں اور سخت تکلیف ہوتی ہے۔پیشاب کی نالی میں شدید درد ہوتا ہے اور مریض کو چلتے ہوئے بھی تکلیف ہوتی ہے۔کینی بس سٹائیوا میں دمہ کی علامت بھی پائی جاتی ہے۔چھاتی سے گڑ گڑاہٹ کی آواز آتی ہے۔کھلی ہوا میں سکون ملتا ہے۔اگر مثانے کی تکلیف اور دمہ اکٹھے ہوں تو کینیس سٹائیوا ممکنہ دوا ہو سکتی ہے۔دراصل چھاتی کی بہت سی امراض دبے ہوئے سوزاک کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں اور اسی وجہ سے دمہ بھی ہوتا ہے اور اس کا اثر پیشاب کی نالی پر بھی ظاہر ہوتا ہے۔اگر پیشاب کی نالیوں میں سوزش کی مشابہت سوزا کی امراض سے ہو اور دمہ بھی ہو تو کینی بس سٹائیوا بہت مفید دوا ہے۔کینیں سنائیوں میں دل سے بھی پانی کی بوند میں گرنے کا احساس ہوتا ہے۔دھڑکن کے ساتھ درد محسوس ہوتا ہے۔سیڑھیاں چڑھتے ہوئے گھٹنے کی ہڈی میں تکلیف ہوتی ہے اور پاؤں بوجھل ہو جاتے ہیں۔لیٹنے کے بعد بھی تکلیفیں بڑھتی ہیں۔دافع اثر دوا کیمفر طاقت 30