ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 206 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 206

کلکیر یافاس 206 کلکیر یا فاس اور سیمی سی فیوجا میں یہ علامت مشترک ہے کہ حیض کے آغاز میں رحم میں اینٹھن ، درد اور شیخ ہوتا ہے لیکن ایک پہچان ایسی ہے جو دونوں کو ایک دوسرے سے ممتاز کر دیتی ہے وہ یہ کہ سیمی سی فیوجا میں جوں جوں خون کا بہاؤ زیادہ ہوتا ہے تکلیف بڑھتی ہے جبکہ کلکیر یا فاس میں خون شروع ہونے سے پہلے در دیں شروع ہو جاتی ہیں اور بہت تکلیف دہ تشخی دورے پڑتے ہیں اور سخت تکلیف محسوس ہوتی ہے لیکن جب خون جاری ہو جائے تو آرام محسوس ہوتا ہے اور دوران حیض کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔کلکیریا فاس کی یہ علامت اسے دوسری دواؤں سے ممتاز کرتی ہے عام طور پر میگنیشیا فاس شیخ کی بہترین دوا کبھی جاتی ہے اور صرف رحم میں ہی نہیں بلکہ سارے جسم کے شیخ میں کام آسکتی ہے۔اگر شیخ کوگرمی پہنچانے سے آرام محسوس ہوتو میگنیشیا فاس دیں لیکن اگر سردی سے آرام آئے تو بیلا ڈونا، ایپس سیکیل اور پلسٹیلا بھی اچھی دوائیں ہیں۔کلکیر یا فاس کے شیخ میں بھی گرمی پہنچانے سے آرام آتا ہے۔کلکیر یا فاس عورتوں کے جنسی اعضاء میں شیخ کی بہترین دوا ہے۔اگر جنسی خواہشات ضرورت سے زیادہ ہو جا ئیں جو ایک طبعی کیفیت کے نتیجہ میں نہیں بلکہ بیماریوں کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں تو کلکیر یا فاس کے علاوہ پلاٹینا، گریشیولا اور اوری کینم (Origanum) بھی کام آ سکتی ہیں۔اگر پیشاب کرتے ہوئے رحم باہر آ جائے تو فوراً کلکیر یا فاس دینی چاہئے۔کلکیر یا فاس میں عموماً کالے رنگ کے خون کے لوتھڑے آتے ہیں جب کہ کلکیر یا کارب اور فاسفورس میں خون کا رنگ سرخ ہوتا ہے۔حیض عموماً وقت سے پہلے جاری ہو جاتا ہے۔اگر جلدی خون شروع ہو جائے تو وہ سرخ ہوگا لیکن اگر دیر ہو جائے تو خون سیاہی مائل ہوگا۔بعض دفعہ شروع میں سرخ پھر سیاہی مائل ہو جاتا ہے۔کلکیر یا اس میں لیکور یا انڈے کی سفیدی کی طرح ہوتا ہے۔صبح کے وقت علامات شدت اختیار کر لیتی ہیں۔دودھ پلانے والی عورتوں کا دودھ نمکین ہوجاتا ہے اور بچہ دودھ پینے سے انکار کردیتا ہے۔کلکیر یا فاس کا مریض بے ساختہ آہیں بھرنے لگتا ہے۔سینہ دکھتا ہے۔دم گھٹنے والا کھانسی