ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 205 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 205

کلکیر یافاس 205 50 کلکیر یا فاس CALCAREA PHOSPHORICA کلکیر یا فاس کیلشیم اور فاسفورس کا مرکب ہے اور اس پہلو سے بہت گہری دوا ہے، اس سے زیادہ تر بائیو کیمک طریقہ علاج میں استفادہ کیا گیا ہے۔لیکن وہاں بھی اس کا استعمال مزید توجہ کا محتاج ہے۔کلکیریا فاس میں یہ بات یادرکھنے کے لائق ہے کہ یہ عورتوں کی بہترین دوست دوا ہے اور اس کی بہت سی علامتیں ایسی ہیں جو عورتوں کی روز مرہ بیماریوں میں ملتی ہیں۔ان میں کلکیریا فاس کو ہمیشہ یادرکھنا چاہئے۔جب بچیوں میں بلوغت کے آثار ظا ہر ہونے لگیں تو کئی قسم کی تکلیفیں شروع ہو جاتی ہیں۔حیض کے ایام بہت تکلیف دہ ہوں ، خون زیادہ آئے یا ایام میں کمی بیشی ہوتو کلکیریا فاس کی ضرورت پڑتی ہے۔اگر اس ابتدائی دور میں سردی لگنے کی وجہ سے ایام میں بے قاعدگی پیدا ہو جائے تو ساری عمر کا روگ لگ جاتا ہے اور اس وقت تک پیچھا نہیں چھوڑ تا جب تک کلکیر یا فاس استعمال نہ کی جائے۔حیض کے ایام میں پیدا ہونے والی ہر بے قاعدگی کو فوراً وقتی طور پر پیدا ہونے والی علامتوں سے پہچانا بہت مشکل ہے جب تک بیماری کے پورے پس منظر سے واقفیت نہ ہو۔اگر بڑی عمر میں جا کر ایسی تکلیفیں ظاہر ہوں تو علاج کرتے ہوئے عموماً خیال نہیں آتا کہ بچپن میں کیا بداحتیاطی ہوئی تھی۔اس لئے ضروری ہے کہ بیمار خواتین سے ان کے آغاز جوانی میں واقع ہونے والے اندرونی عوارض کی تفصیل پوچھی جائے اور پتہ کیا جائے کہ بیماری کا آغاز کب اور کیسے ہوا تھا؟ اگر حیض کے ایام میں سردی لگ جائے اور حیض کی بے قاعدگی شروع ہو جائے تو کلکیر یا فاس کو فوراً استعمال کروانا چاہئے۔اس کے استعمال کے بعد یہ تکلیفیں خدا کے فضل سے دوبارہ نہیں ہوں گی۔