ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 193 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 193

193 کلکیریا کارب مریض کا عمومی مزاج اس سے ملنا ضروری ہے ورنہ کام نہیں کرے گی۔بعض بیماریوں میں زخموں کو چیرا دینا پڑتا ہے۔کلکیریا کارب ایسے چیروں کی ضرورت کو ختم کر سکتی ہے۔گہرے پھوڑے جو بیرونی جلد کی سطح کے نیچے ہوتے ہیں ان میں کلکیریا کارب بہت موثر ثابت ہوتی ہے اور سلیشیا سے بھی بہتر اثر دکھاتی ہے۔پھوڑایا تو از خود کھل کر غائب ہو جاتا ہے یا پیپ بنتی ہے تو معمولی اور پھوڑا بغیر کسی تکلیف اور تیکن کے گھل جاتا ہے۔ایسی صورت میں یہ وقتی دوا کے طور پر فائدہ دے گی۔کلکیریا کارب کا مریض واضح طور پر پہچانا جاتا ہے۔جسم فربہی مائل ہو ، زرد رنگت ، سر نسبتا بڑا، پسینہ آنے کا رجحان ہو۔جسم کبھی ٹھنڈا کبھی گرم، سارے جسم کا نظام ست ہو تو یہ کلکیریا کارب کے مریض کی عمومی تصویر ہے لیکن مریض میں اس کی ہر علامت کا موجود ہونا ضروری نہیں ہوتا، نہ ہی کوئی ایک علامت اکیلی کلکیریا کارب کی نشاندہی کر سکتی ہے۔مثلاً بعض بچوں کا سر پیدائشی بناوٹ کے لحاظ سے بڑا ہوتا ہے ،ضروری نہیں کہ وہ کلکیریا کارب کے مریض ہوں، بعض ہو بھی سکتے ہیں۔بعض دفعہ کلکیریا کی علامتیں عمر کے ساتھ رفتہ رفتہ ظاہر ہوتی ہیں۔کلکیریا کے مریض کے ناک میں اکثر مواد اکٹھا ہوکر جم جاتا ہے اور اس کی وجہ سے سانس لینے میں دقت محسوس ہوتی ہے۔کلکیریا کارب دینے سے یہ مواد جھلیوں سے الگ ہوکر بآسانی باہر نکل جاتا ہے اور کسی قسم کے اپریشن کی ضرورت پیش نہیں آتی۔جسم میں کیلشیم کا توازن بگڑنے سے بعض دفعہ ہڈیوں کے کونے بڑھنے لگتے ہیں اور گھٹنوں کے جوڑوں کی ہڈیوں میں کیلشیم کے ابھار سے بن جاتے ہیں جو بہت تکلیف دہ ہوتے ہیں اس کا علاج کلکیریا کارب سے ہو جاتا ہے۔اگر کوئی بچہ ٹانگوں میں کمزوری کی وجہ سے دیر سے چلنا سکھے تو کلکیریا کارب اس کا علاج ہے۔اگر بچہ دیر سے بولنا شروع کرے تو برائیا کا رب بہترین ہے۔جہاں یہ دونوں علامتیں پائی جائیں تو نیٹرم میور مفید ہوگی۔اگر بچے کے جسم میں پیدائشی طور پر سوڈیم کا توازن بگڑ جائے تو اس سے ذہنی