ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 194 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 194

194 کلکیریا کارب صلاحیتوں پر اثر پڑتا ہے نیز ٹانگیں بھی کمزور ہو جاتی ہیں اور مریض سوکھے کا شکار ہو جاتا ہے۔نیٹرم میور کی خاص علامت یہ ہے کہ ٹانگیں اور اوپر کا دھڑ دونوں بیک وقت سو کھتے ہیں اور زبان پر بھی اثر ہوتا ہے چنانچہ بچہ دیر سے چلنا اور بولنا سیکھتا ہے۔لیکن کلکیریا کارب میں زبان متاثر نہیں ہوتی اور بچہ معمول کے مطابق بولنا سیکھ لیتا ہے، ہاں چلنا دیر میں سیکھتا ہے۔چھوٹا قد بھی کلکیریا کارب کی ایک علامت ہے۔اگر جسمانی کمزوری کے ساتھ ذہنی کمزوری بھی نمایاں ہو تو یہ برائیٹا کارب کی علامت ہے۔اگر کلکیریا کارب کے مزاجی مریض کی ہڈیوں میں ٹیڑھا پن پیدا ہونے لگے اور وہ بد نما دکھائی دینے لگیں تو کلکیریا کارب دینے سے بتدریج مگر واضح بہتری کے آثار ظاہر ہونے لگتے ہیں۔مریض اندرونی طور پر سردی محسوس کرتا ہے مگر بعض اوقات ہاتھ پاؤں جلتے ہیں۔طوفان آنے سے قبل مریض کی بیماری کی علامات بڑھنی شروع ہو جاتی ہیں مثلاً اگر گرد کا طوفان آنے والا ہو تو کئی گھنٹے پہلے دمے کی علامات والا مریض وہ علامات ظاہر کرتا ہے جو گرد کی صورت میں بعد میں ظاہر ہوتی ہیں۔ایسے مریضوں کی ایک دوا کلکیریا کا رب بھی ہے۔وہ مریض جو زیادہ لمبا عرصہ دینی کام نہ کر سکے اور تھک جائے اور جسم کے دوسرے حصوں میں بھی کمزوری کی علامتیں ظاہر ہوں، اس کا سارا نظام ہی کمزور پڑ جاتا ہے اور وہ بہت جلد تھکنے لگتا ہے۔کلکیر یا کارب دینے سے وہ آرام محسوس کرے گا اور بے چینی زیادہ عرصہ باقی نہیں رہے گی۔اگر کلکیر یا کا مریض بہت ہیجانی (Excited) ہو جائے تو اسے کئی قسم کے نظارے دکھائی دینے لگتے ہیں۔خصوصا نوکدار چیزیں نظر آنے لگیں گی، تصویر یں اور اجسام ناچتے ہوئے دکھائی دیں گے۔اسی طرح بے جان اشیاء، کیل، تار، چھنے اور کاٹنے والی چیزیں نظر آئیں گی۔اگر بچوں میں ایسی علامتیں ہوں تو کلکیریا کارب الا ما شاء اللہ یقینی دوا ہے۔عام کمزوری کی علامت ہو، سردی محسوس ہوتی ہو مگر ہاتھ پاؤں جلیں تو بھی کلکیریا کارب علاج ہے۔کلکیریا کا ذہنی مریض اکثر چٹکیاں بھرتا رہتا ہے اور اسے سونے سے پہلے مختلف چہرے دکھائی دیتے ہیں لیکن موت کا خوف نہیں ہوتا۔ناخنوں کے ساتھ جلد کھڑ جاتی ہے جو بہت تکلیف کا باعث بنتی ہے۔یہ علامت