ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 178
178 بخارنہیں ہوتے۔کیکٹس کے مریض مرض کے اچانک حملہ سے سخت خوفزدہ ہو جاتے ہیں اور ایکونائٹ کی طرح علامتیں ظاہر ہو جاتی ہیں۔بیماری کے اچانک پین اور کیکٹس کے خصوصی مزاج کی وجہ سے موت کا خوف طاری ہونا قدرتی بات ہے۔ماؤف حصہ میں سبج اتنا شدید ہو جاتا ہے کہ جیسے لوہے کی تاریں کسی جارہی ہوں۔ہر جگہ تنگی اور گھٹن کا احساس غالب ہوتا ہے۔گلے میں ہو تو کالر کے بٹن بند کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے لیکیسس اور گلونائن میں بھی کسی حد تک یہ علامت پائی جاتی ہے۔کیکٹس میں تشیخ کی وجہ سے ماؤف حصہ زخمی ہو جاتا ہے۔رحم کے اندر بھی یہی کیفیت ہوتی ہے۔نو بیاہتا عورتوں کے لئے یہ دوا بہت اہم ہے بشرطیکہ شیخ کی وجہ سے سخت تکلیف ہو۔جسم کے کسی ایسے حصہ پر جہاں عموماً تشخ کا اثر نہیں ہوتا وہاں گھٹن اور شیخ کا احساس ہو تو یہ کیکٹس کی نمایاں علامت ہے۔گنٹھیا اور بائی کی دردوں میں بھی ماؤف حصہ میں تشیخ ملتا ہے۔خون کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔کو ٹھیکم اور بنزوئیک ایسڈ میں پاؤں کا انگوٹھا سوجتا ہے مگر تشنج نہیں ہوتا۔کیکٹس میں ایسی ماؤف جگہ پر شیخ بھی ہو جاتا ہے۔یہ دوا دل کے لئے تب مفید ثابت ہوتی ہے جب تکلیف دل تک ہی محدودر ہے اور وہیں جکڑن کا احساس ہو۔انجائنا میں سینہ کے درمیان کی ہڈی میں تکلیف ہوتی ہے۔اگر دل بڑھ جائے اور اس کی حرکت معمول کے مطابق نہ رہے، تیز سوئی کی چھن کی طرح درد ہوا اور سرسراہٹ ہونے لگے ( بشر طیکہ دل کے گر دسخت جکڑن کا احساس ہو ) تو ایسا انجائنا کا مریض بھی کیکٹس سے کلی شفا پا سکتا ہے۔گردوں کی تکلیفیں مزمن ہو جائیں تو جسم میں پھلپھلی اور میں پیدا ہو جاتی ہیں۔خصوصاً پاؤں اور ٹانگوں میں۔ایسی صورت میں کیلٹس کی دوسری علامتیں نمایاں ہوں تو بفضلہ تعالیٰ یہ سارے بدن کو شفا بخش دیتی ہے۔بعض دفعہ کوئی اور علامت نمایاں نہ ہو تو سکڑن کا اچانک پن اور اس کی شدت کیکٹس کو ظاہر کرنے کے لئے کافی ہے۔اس لئے ان علامتوں کے ساتھ بلاتر در کیکٹس دے دینی چاہئے کیونکہ اگر کیکٹس ہی دوا ہو تو افاقہ تیزی سے ہوگا۔اگر نہ ہو تو نقصان بھی نہیں کیکٹس کو ہنگامی دواؤں کے طور پر ہمیشہ اپنے