ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 162 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 162

برائیونیا علامت برائیو نیا میں نمایاں طور پر پائی جاتی ہے۔162 بعض لوگوں کو ایسی بیماریاں لگ جاتی ہیں جن کے نتیجہ میں ان میں چلنے پھرنے کی سکت نہیں رہتی۔ان میں عام کمزوری نہیں ہوتی لیکن کچھ عرصہ چلنے سے جسم بھاری محسوس ہوتا ہے اور یہی بھاری پن گہرے درد میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ٹانگیں بے جان ہو جاتی ہیں۔ایسے مریضوں میں برائیو نیا بہت مفید ہے لیکن اسے مستقل دینا پڑتا ہے۔لمبی سیر پر جانے سے پہلے یا سخت کھیلوں کے آغاز پر ہی برائیو نیا 200 آرنیکا کے ساتھ ملا کر استعمال کی جائے تو بہت فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔بعض اوقات عورتوں میں بچے کی پیدائش کے بعد ٹانگ سوج جاتی ہے اسے White Leg کہتے ہیں۔غالباً خون کے جمنے کے نتیجہ میں خون کا Clot بن کر خون کا دوران رک جاتا ہے۔بعض خواتین کا یہ مرض پرانا ہو جائے اور وہ معذور ہو جائیں اور کوئی علاج نہ ہو سکے اور ٹانگوں پر نیلے اور کالے دھبے بننے لگ جائیں اور ویری کو ز و نیز کی علامتیں ظاہر ہو جائیں تو بیماری کے اس درجہ تک پہنچنے کے بعد آرنیکا اور برائی اونیا ملا کر دینا بھی کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔ہاں ان کے علاوہ ایسکولس 30 میں دی جائے تو بہتر نتائج ظاہر ہوتے ہیں۔اگر یہی تکلیف بائیں طرف ہو تو آرنیکا 200 طاقت کو کیس 200 طاقت سے ملا کر دیا جائے اور ساتھ ہی ایسکولس 30 بھی۔برائیو نیا کو کسی مستقل اثر رکھنے والی دوا مثلاً سلفر، لائیکو پوڈیم کے ساتھ ادل بدل کر دیا جائے تو مزمن بیماریوں کو بھی جڑ سے اکھیڑ سکتی ہے۔جگر کی گہری بیماریوں میں حسب ذیل نسخہ بہت مؤثر ثابت ہوتا ہے۔برائیو نیا 200 دن میں ایک دو بار اور سلفر 30 دن میں 3 دفعہ روزانہ۔اس کے ساتھ کارڈووس میر یانس مدر ٹنکچر کے چند قطرے پانی میں ملا کر دن میں 3 دفعہ دی جائے۔Hepititis B میں بھی یہ بہت اچھا نسخہ ثابت ہوا ہے۔یہی نسخہ جگر کے کینسر میں بھی بہت مفید ہے۔بعض ایسے مریض تجربہ میں آئے ہیں جن کو ڈاکٹروں نے قطعی طور پر جگر کا کینسر تشخیص کیا اور ہر قسم کی ریڈی ایشن (Radiation) اور دواؤں کے استعمال