ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 157
بووسٹا 157 39 بووسٹا BOVISTA بووٹا کو عام انگریزی میں Puff - Ball بھی کہتے ہیں۔یہ روایتا بچوں کے ایگزیما میں استعمال ہوتی رہی ہے۔ایسے مریض جنہیں ایگزیما ہو اور خون بہنے کا رجحان ہو اور وہ کچھ ہکلاتے بھی ہوں تو ان کے لئے یہ ایک بہت اعلیٰ دوا بتائی جاتی ہے۔عام انسانوں کے مقابل پر اس کے مریضوں کا دم لکڑی کے دھوئیں سے بہت زیادہ گھٹتا ہے۔اگر دھواں ادھ جلے کوئلے کا ہو تو اس سے ہر انسان کے خون میں کاربن مونو آکسائیڈ (Carbon MonoOxide) شامل ہو کر اسے گہری نیند سلا دیتی ہے۔یہ نیند صحت مند نہیں ہوتی بلکہ اس زہر کے مہلک اثر سے آتی ہے۔اگر فوری طور پر اس کا علاج نہ ہو اور مریض کو ایسے کمرے سے کھلی ہوا میں باہر نہ لے جایا جائے تو اکثر اس کی یہ میٹھی نیند سے موت سے ہم آغوش کر دیتی ہے۔ساری جلد کا رنگ نیلا پڑ جاتا ہے۔کار بو ویج اور آرنیکا 30 طاقت میں ملا کر دینا اس کا فوری کامیاب علاج ہے لیکن بعض کتابوں میں بو وسٹا کو بھی اس تکلیف کے ازالے کے لئے ایک اچھی دوا بتایا گیا ہے۔بووسٹا میں منہ اور ناک کے کناروں پر زخم بن جاتے ہیں اور زخموں پر ایک پتلے چھلکے کی طرح تہہ آ جاتی ہے۔نیٹرم میور میں بھی یہ علامت ہے لیکن اس کے زخموں میں کچا پن پایا جاتا ہے اور کوئی تہ نہیں جمتی۔بوسٹا میں نزلاتی مواد کوکس (Coccus) کی طرح دھاگے دار ہوتا ہے۔ناک اور مسوڑھوں سے خون بہتا ہے۔سر کی جلد میں کھجلی کے ساتھ دماغ میں بھی مبہم سی درد کا احساس رہتا ہے۔بوسٹا میں تنگ کپڑوں سے گھبراہٹ ہوتی ہے۔کوئی چیز بھی کسی ہوئی ہو تو اس سے تکلیف ہوتی ہے۔یہ علامت لیکیس میں بھی ہے۔