ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 134 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 134

بیلاڈونا 134 زیادہ ہونے سے تشنجی کیفیت بھی پیدا ہو جاتی ہے اور جھٹکے لگتے ہیں۔اگر معدہ اور اعصابی نظام بگڑنے کی وجہ سے سوتے میں جسم کو جھٹکے لگیں تو گرائینڈ میلیا (Grindelia) بہترین دوا ہے۔بیلا ڈونا میں بھی جسم کو جھٹکے لگنے کی علامت پائی جاتی ہے۔گرائنڈ یلیا میں سارے جسم کو جھٹکا نہیں لگتا بلکہ محسوس ہوتا ہے کہ دل کو جھٹکا لگا ہے۔بیلاڈونا میں تمام جسم اچانک لرز اٹھتا ہے اور اسی جھٹکے سے مریض کی آنکھ کھل جاتی ہے اور بار بار ایسا ہوتا ہے، مریض سونہیں سکتا۔بیلا ڈونا کی ایک خوراک دینے سے ہی بعض اوقات تکلیف فی الفور ختم ہو جاتی ہے۔اگر سر اور آنکھوں کی بیماریوں میں روشنی نا قابل برداشت ہو تو یہ بھی بیلا ڈونا کی علامت ہے۔بیلا ڈونا کی علامتیں اگر کسی مریض کی علامتوں سے مل جائیں تو یہ اتنی زوداثر دوا ہے کہ ادھر مریض کو دوا کھلائی ادھر مرض غائب ہو گیا۔وہ حیرت سے پوچھتا ہے کہ کیا دیا تھا کہ تکلیف یکدم غائب ہو گئی۔بیلا ڈونا میں دماغی علامتیں ایکونائٹ کے مقابل پر بہت زیادہ ہوتی ہیں۔بیلا ڈونا دماغ پر بھی حملہ کرتی ہے اور شدید پاگل پن کا دورہ پڑسکتا ہے۔بیلا ڈونا کا پاگل بہت متشدد پاگل ہوتا ہے۔اگر کسی پاگل میں بے انتہا جوش ہو، کسی کو مارنے یا خودکشی کرنے کی کوشش کرے، غصے میں بہت تیزی ہو اور سنبھالنے والوں کو بھی مارے تو اسے فوراً بیلا ڈونا دینا چاہئے لیکن اگر مرض مزمن ہو جائے تو پھر بیلا ڈونا کام نہیں کرے گا۔ہاں کسی کو اچانک پاگل پن کا دورہ پڑے، جیسا کہ بعض بیماریوں میں سرسام کے نتیجہ میں ہو جاتا ہے تو بیلا ڈونا فوری اثر دکھا سکتا ہے۔اگر مستقل مریض ہو تو سلفر اور سٹرامونیم وغیرہ زیادہ مؤثر ہیں۔بعض پاگل اتنے جو شیلے ہو جاتے ہیں کہ انہیں زنجیروں سے باندھنا پڑتا ہے۔یہ خاص بیلاڈونا کی علامت ہے لیکن بیلا ڈونا دے کر وقتی آرام ہو تو مطمئن نہیں ہو جانا چاہئے بلکہ گہری دسر پا اثر والی دوا تلاش کرنی چاہئے۔مزمن پاگل پن میں ضرور کوئی مزاجی دوا ڈھونڈنی پڑے گی۔ایکونائٹ اور بیلا ڈونا دیر پا اثر کرنے والی دوائیں نہیں ہیں۔بعض دفعہ بیماری کا حملہ عارضی ہوتا ہے لیکن مستقل بیماری وقتی طور پر ٹھیک ہونے