ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 123 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 123

پیٹیشیا 123 ہائی مس کی علامتیں پائی جاتی ہیں۔یہ دونوں دوائیں ٹائیفائیڈ میں بھی مفید ہیں۔ان سے مکمل شفا تو نہیں ہوتی لیکن علامات قدرے نرم ہو جاتی ہیں۔بیٹی یا دانتوں کے لئے بھی مفید دوا ہے۔دانت اور مسوڑھے خراب ہوں ، بد بودار پیپ بنے لگے اور مسوڑھے دانت چھوڑ دیں تو پیلیشیا بھی دوا ہو سکتی ہے۔پیشیا کی ایک علامت یہ ہے کہ مریض غنودگی اور نیم بے ہوشی کی کیفیت میں رہتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ اس کے اعضاء الگ الگ ہو گئے ہیں۔اس کی شخصیت اعضاء میں بکھر جاتی ہے۔اس کی غنودگی الگ الگ اعضاء پر قبضہ کئے رکھتی ہے۔جب اسے مجبور کر کے اٹھایا جائے تو پھر وہ غنودگی کے عالم میں ہی اٹھتا ہے اور بکھرے ہوئے اعضاء کو جمع کرنے کی کوشش کرتا ہے۔بعض دفعہ ان سے مخاطب بھی ہوتا ہے۔بعض دفعہ سمجھتا ہے کہ اس کی ایک ٹانگ اس کی دوسری ٹانگ سے باتیں کر رہی ہے۔اسے جھنجھوڑ کر کوئی سوال کیا جائے تو سوال کا جواب دیتے دیتے پھر سو جاتا ہے۔پیپلیشیا ایسے ذہنی الجھاؤ کا بہترین علاج ہے بشرطیکہ اس کی کچھ دوسری علامتیں بھی پائی جاتی ہوں۔پیٹیشیا میں عمو مامٹیالے یا ہلکے زرد رنگ کے لئی کی طرح کے اسہال ہوتے ہیں اور بعض دفعہ اسہال کا رنگ سلیٹی ہوتا ہے۔بعض اوقات ماتھے پر پسینہ آتا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ مریض کی تمام طاقتیں جواب دے رہی ہیں۔جب یہ صورت حال ہو تو زبان چمڑے کی طرح اکٹر کر خشک ہو جاتی ہے اور دانتوں کے ارد گرد زخم بننے لگتے ہیں اور بد بو آتی ہے۔اگر اس کیفیت میں بروقت بیشی مل جائے تو مریض اکثر موت کے کناروں سے لوٹ آتے ہیں۔بیلیشیا میں منہ میں زخم ہوتے ہیں جو گینگرین کی شکل بھی اختیار کر لیتے ہیں۔اکثر زخموں میں درد نہیں ہوتا البتہ منہ کا مزہ خراب ہو جاتا ہے۔بیٹیشیا کے زخم کے اردگر د فالجی علامتیں پیدا ہو جاتی ہیں اور اردگرد کے ماحول سے زخم کا تعلق ٹوٹ جاتا ہے۔یہ بہت خطر ناک علامت ہے۔جس زخم کے اردگرد کا حصہ ماؤف ہو جائے تو اسی نسبت سے وہاں ہو میو پیتھک دوا کا پیغام پہنچنے میں دقت ہوسکتی ہے۔اس لئے مرض کو بر وقت پہچان