ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 98 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 98

آرسینک 98 ہیں۔اگر مروجہ طب کے ذریعہ ایسی مریضہ کی ماہواری کا علاج کیا جائے جسے زیادہ خون آتا ہو تو اس کی بیماری بظاہر دب جاتی ہے مگر رحم کے اندر سٹراند کے آثار پیدا ہو جاتے ہیں اور مستقل بد بودار، لیس دار مادہ یا خون کے لوتھڑے نکلنے لگتے ہیں۔اسی طرح دیگر اخراجات کو بھی علاج کے ذریعہ بند کیا جائے تو بہت خطرناک اثرات ظاہر ہوتے ہیں جو بعض اوقات ذہنی بیماریوں پر منتج ہو سکتے ہیں۔سارے جسم میں دردیں اور بے چینی ہوتی ہے اور جسم میں زہر یلے مادے جمع ہونے لگتے ہیں۔جن کے اخراج کی کوئی صورت نہیں ہوتی اور گردوں پر بہت برا اثر پڑنے لگتا ہے۔ایسی صورت میں ضروری ہے کہ اخراجات کو دوبارہ جاری کیا جائے۔اس میں آرسینک ایک اہم دوا ہے۔کالی آیوڈائیڈ اور آرسینک آیوڈائیڈ کو باری باری یا اکٹھے ملا کر دینا بھی مفید ہے۔علاوہ ازیں سلفر اور پائر و جینم 200 کو ملا کر دینا رحم کے اکثر تعفنات اور ان کے نتیجے میں بخار یا دینی انتشار کو دور کرنے میں بہت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔آرسینک اور سیکیل کار (Secale Car) (ارگٹ ) بہت سی علامتوں میں ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔سیکیل کار خون کے گہرے امراض میں استعمال ہوتا ہے۔جس بیماری میں بھی کالے رنگ کا متعفن خون خارج ہونے لگے اور سیکیل کی نمایاں علامت یعنی شدید گرمی کا احساس موجود ہو تو یہ دوا بسا اوقات تیر بہدف ثابت ہوتی ہے۔آرسینک سے جو علامات ملتی ہیں ان میں بے چینی اور خون کے تعفنات شامل ہیں۔لیکن ایک امتیازی فرق یہ ہے کہ سیکیل کار کا مریض شدید گرمی محسوس کرتا ہے اور آرسینک کا مریض سخت سردی کے احساس سے اپنے جسم کو ہر وقت ڈھانپتا رہتا ہے اور آگ کے پاس بیٹھنا پسند کرتا ہے۔سیکیل کا مریض گرمی محسوس تو کرتا ہے مگر اس کی اندرونی گرمی کو افاقہ بھی بیرونی گرمی پہنچانے سے ہوتا ہے۔اگر دباؤ محسوس ہو تو دباؤ ہی سے آرام آتا ہے۔سخت بد بودار اخراجات، موت کا خوف اور گھونٹ گھونٹ پانی پینا۔یہ تصویر ذہن کو فوری طور پر آرسینک کی طرف منتقل کرتی ہے۔آرسینک کی بیماریوں میں تکرار پائی جاتی ہے۔خاص معین مدت کے بعد مرض عود کر آتا ہے۔چار، سات یا چودہ دن کے بعد خاص وقفوں میں مرض دہرایا جاتا ہے لیکن ان