حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 48 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 48

48 بچپن میں خدمات دین و ملت بچپن کی عمر میں جس قسم کی خدمت کے مواقع آپ کو ملے آپ نے تربیت کے نقطہ نگاہ سے ان کا ذکر بھی کیا۔اپنا ایک مشاہدہ بیان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا: ” میں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر اپنے بچپن کے زمانہ میں جذبہ خدمت کے نہایت حسین نظارے دیکھتے ہیں۔نظارے اتنے حسین ہیں کہ انہیں بار بار بیان کرنا چاہئے تاکہ ہماری جو چھوٹی پود ہے، نئی نسل ہے، ان کو بھی پتہ لگے کہ مہمان کی خدمت کیسے کی جاتی ہے۔ایک دفعہ میں بہت چھوٹی عمر کا تھا۔مدرسہ احمدیہ کی چوتھی جماعت میں داخل ہوا تھا یا شائد پانچویں جماعت میں ہوں گا یعنی یہ قرآن کریم حفظ کرنے کے معا بعد کی بات ہے۔ہمارے چھوٹے ماموں جان (حضرت میر محمد اسحاق الله ) افسر جلسہ سالانہ ہوا کرتے تھے۔آپ ہماری تربیت کی خاطر ہمیں اس عمر میں اپنے ساتھ لگا لیتے تھے۔آپ ہر لحاظ سے ہمارا خیال بھی رکھتے تھے اور پورا وقت ہم سے کام بھی لیتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ رات کے گیارہ گیارہ بجے تک آپ ہم سے کام بھی لیتے تھے۔چاہے وہ دفتر میں بٹھائے رکھنے کا ہو یا خطوط وغیرہ فائل کرنے کا۔ہو۔ان کے علاوہ دوسرے تمام کام جو اس عمر کے مطابق ہوں ہم۔لیتے تھے۔ایک دن آپ نے مجھے کہا (رات کے کوئی نو دس بجے کا وقت ہو گا) کہ مدرسہ احمدیہ میں دو صحن تھے ایک بڑا صحن تھا اس کے اردگرد رہائشی کمرے تھے چند ایک کلاس روم بھی تھے لیکن زیادہ تر رہائشی کمرے تھے ایک چھوٹا صحن تھا۔جس کے اردگرد چھوٹے کمرے تھے اور وہاں کلاسیں ہوا کرتی تھیں۔جلسہ کے دنوں میں ان کمروں میں بھی مہمان ٹھرا کرتے تھے حضرت میر صاحب نے کہا ان چھوٹے کمروں کا چکر