حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 44
44 میں پانی ڈالتا اور پی لیتا۔انہی دنوں کراچی سے ایک غیر احمدی افسر لاہور آیا وہ کسی زمانہ میں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کا سیکرٹری بھی رہ چکا تھا اور میرے ملنے کے لئے بھی آ گیا اور ملتے ہی کہنے لگا کہ آپ یہ نہ سمجھیں کہ میں آپ کو چوہدری صاحب کی وجہ سے ملنے کے لئے آیا ہوں۔میں اس لئے آیا ہوں کہ مجھے پتہ چلا ہے کہ جب آپ کو پیاس لگتی ہے تو آپ چپڑاسی یا مددگار کارکن کو نہیں کہتے کہ پانی لا دو بلکہ خود ہی اٹھ کر پانی پی لیتے ہیں۔تو عادت کی وجہ سے مجھے احساس ہی نہ ہوتا تھا کہ میں کیا کام کرتا ہوں اور کیا نہیں کرتا۔مجھے تو عادت ہی پڑی ہوئی ہے۔میری نظر میں یہ نہ کوئی بڑی بات ہے نہ کوئی عجیب چیز۔لیکن غیر کی نظر میں ایک چھوٹی سی بات ایسی ہو گئی کہ اس نے یہ سمجھا کہ یہ لوگ ہمارے جیسے نہیں۔اور واقعہ میں جو شخص احمدیت کے فیض سے مستفیض ہو چکا ہے وہ عام انسانوں کی طرح نہیں رہتا۔اس کی ہر بات میں اور ہر ادا میں ایک خصوصیت ہوتی ہے۔" آپ کی تربیت میں حضرت اماں جان کا غیر معمولی ہاتھ تھا جس کا آپ کے عزیزوں نے مشاہدہ کیا۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث کے ساتھ بچپن گزارنے کے واقعات بیان کرتے ہوئے آپ کے چچا زاد بھائی صاحبزادہ مرزا ظفر احمد صاحب مرحوم ۵۲ لکھتے ہیں۔" مسجد مبارک چونکہ ساتھ ہی تھی اس لئے نماز کے لئے جاتے ہوئے حضرت مصلح موعود حضرت اماں جان کے دالان میں سے گزر کے جاتے۔جیسے ہی حضور کے پاؤں کی آواز آتی۔حضرت اماں جان ہمیں فرمائیں بچو! اب نماز کے لئے جاؤ اور ہم جلدی جلدی وضو کر کے نماز کے لئے چلے جاتے۔بھائی کے کھیلنے کا وقت مقرر تھا اور حضرت اماں جان کی ہدایت تھی کہ مغرب کی نماز مسجد مبارک میں پڑھنی ہے۔اگر کسی وجہ سے دیر