حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 589 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 589

538 اس کا کل ابتدائی سرمایہ ۵۳ لاکھ روپے تھا اور اس سال نصرت جہاں کا بجٹ تین کروڑ روپے سے زائد ہے۔ہم نے کتنی قربانی دی اور اللہ تعالٰی نے اسے بڑھا کر کہاں کا کہاں پہنچا دیا۔اللہ تعالیٰ نے نصرت جہاں سکیم کے تحت قائم ہونے والے ہسپتالوں کے ڈاکٹروں کے ہاتھ میں شفا رکھ دی۔۔۔کیا کوئی منڈی ایسی آپ کے علم میں ہے جہاں شفا بکتی ہو! میرے علم میں ہے۔وہ اللہ کی منڈی ہے h جہاں سے سب کچھ مل جاتا ہے" ۳۴ غرض حضور نے نصرت جہاں ریزرو فنڈ سے خالصتاً اللہ تعالیٰ سے تجارت کرنے کا ارادہ کیا اور اللہ تعالٰی نے اس میں غیر معمولی برکت رکھ دی۔افریقی اقوام کے لئے محبت کا پیغام اور جذبہ محبت و خدمت کے تخت سکولوں اور ہسپتالوں کا اجراء افریقی اقوام مدتوں سے محبت سے محروم اور احساس کمتری کا شکار رہی ہیں اور دنیا کی تمام قوموں میں سب سے زیادہ پسماندہ اور نفرت کا نشانہ بن چکی تھیں۔انہیں ہر لحاظ سے نظر انداز کیا گیا حضرت مصلح موعود نے حضرت مسیح موعود کی تعلیم ++ " ارم میرا مقصود و مطلوب و تمنا خدمت خلق است" کے مطابق ان کی پسماندگی اور پستی دور کرنے کے لئے ان ممالک میں سکولوں اور دکھوں اور بیماریوں میں مبتلا بنی نوع انسان کی خدمت کے لئے ہسپتالوں کا آغاز فرمایا تھا۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث " اپنے دورہ مغربی افریقہ کے دوران نہ صرف ان قوموں کے لئے محبت کا پیغام لے کر گئے بلکہ مغربی افریقہ میں سکولوں اور ہسپتالوں میں غیر معمولی اضافے اور وسعت پیدا کرنے کا وعدہ کر کے واپس تشریف لائے اور اس کے لئے نصرت جہاں سکیم کا اجراء فرمایا۔حضور نے 1920ء کے دورہ کے دوران ان اقوام کو مخاطب کر کے ان کی ہی نسل کے ایک صحابی سیدنا حضرت بلال کے حوالے سے رض