حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 590 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 590

539 اپنے جذبات کی یوں ترجمانی کی۔فرمایا :- فتح مکہ کے روز حضرت نبی اکرم صلی کلیم نے ایک جھنڈا تیار کیا اور آپ نے جھنڈے کا نام بلال کا جھنڈا رکھا اور اس کو ایک مقام پر گاڑ دیا اور سرداران مکہ سے کہا کہ اگر تم امان چاہتے ہو تو اس شخص کے جھنڈے تلے جمع ہو جاؤ جس کو تم نفرت اور حقارت کی نظر سے دیکھا کرتے تھے اور جس پر تم بے انتہا ظلم کیا کرتے تھے۔اس طرح پر اس مظلوم بلال " کا انتقام لیا ایک حسین انتقام جسے میں انگریزی میں Sweet Revenge کہہ دیا کرتا تھا۔یہ میری اپنی اصطلاح ہے لیکن مجھے پسند ہے" مزید فرمایا :- وو۔یہ درست ہے کہ آج سے چند صدیاں قبل مسیحیت تمہارے ملکوں میں نعرے لگاتے ہوئے داخل ہوئی تھی کہ ہم پیار کا Love کا پیغام لے کر آ رہے ہیں لیکن محبت کے اس پیغام کے جھنڈے ان توپوں پر گاڑے گئے تھے جو یورپ کی مختلف اقوام کی فوجوں کے پاس تھیں اور ان توپوں کے مونہوں سے گولے برسے، پھول نہیں برسے اور وہ محبت کا پیغام کامیاب نہیں ہوا نہ اسے ہونا چاہئے تھا نہ وہ ہو سکتا تھا کیونکہ اس سے بہتر اس سے زیادہ پیارا پیغام محمد رسول اللہ علیہ کے ذریعہ دنیا کی طرف نازل ہو چکا تھا۔اب ہم تمہارے پاس محبت کا پیغام : لے کر آئے ہیں ۳۵ اس محبت کا عملی ثبوت حضور نے نصرت جہاں سیکیم کے اجراء سے دیا اور دورہ سے واپسی پر لندن میں سکیم کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا:۔" مجھے یہ فکر نہیں کہ یہ رقم کہاں سے آئے گی کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ خرچ کیا جائے تو انشاء اللہ ضرور دے گا۔یہ رقم مجھے ملے گی۔مجھے کوئی فکر نہیں۔