حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 501
448 فرمایا :- اس لئے آج میں موصی صاحبان کی تنظیم کا خدا کے نام اور اس کے فضل پر بھروسہ کرتے ہوئے اجراء کرتا ہوں۔تمام ایسی جماعتوں میں جہاں موصی صاحبان پائے جاتے ہیں ان کی ایک مجلس قائم ہونی چاہئے۔یہ مجلس باہمی مشورے کے ساتھ اپنے صدر کا انتخاب کرے۔منتخب جماعتی نظام میں سیکرٹری وصایا ہو گا اور اس کے ذمہ علاوہ وصیتیں کرانے کے یہ کام بھی ہو گا کہ وہ گاہے گاہے مرکز کی ہدایت کے مطابق وصیت کرنے والوں کے اجلاس بلائے۔اس اجلاس میں وہ ایک دوسرے کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کریں جو ایک موصی کی ذمہ داریاں ہیں یعنی اس شخص کی ذمہ داریاں جس کے متعلق اللہ تعالی کی بشارت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ خدا کے سارے فضلوں اور اس کی ساری رحمتوں اور اس کی ساری نعمتوں کا وہ وارث ہے " قرآن کریم کے انوار کی اشاعت کرنا ہر موصی کا بحیثیت فرد اور اب موصیوں کی مجلس کا بحیثیت مجلس پہلا اور آخری فرض ہے اور اس بات کی نگرانی کرنا کہ وقف عارضی سکیم کے ماتحت زیادہ سے زیادہ موصی اصحاب اور ان کی تحریک پر وہ لوگ حصہ لیں جنہوں نے ابھی تک وصیت نہیں کی۔وقف عارضی، قرآن کریم سیکھنے سکھانے اور نظام وصیت کے بارے میں فرمایا عارضی وقف کی تحریک جو قرآن کریم سیکھنے سکھانے کے متعلق جاری کی گئی ہے اس کا تعلق نظام وصیت کے ساتھ بڑا گہرا ہے " "ل و" پندرھویں صدی ہجری کا استقبال اور قرآن ہجری تقویم کے لحاظ سے چودھویں صدی جب ختم ہونے کو آئی اور پندرھویں صدی کا آغاز ہونے لگا تو حضور نے جماعت کو آگاہ کیا کہ اگلی صدی غلبہ اسلام کی