حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 500
447 f " وقف عارضی کی جو تحریک ہے اس کا بڑا مقصد بھی یہ تھا اور ہے که دوست رضا کارانہ طور پر اپنے خرچ پر مختلف جماعتوں میں جائیں وہاں قرآن کریم سیکھنے سکھانے کی کلاسز کو منظم کریں اور منظم طریق پر وہاں کی جماعت کی اس رنگ میں تربیت ہو جائے کہ وہ قرآن کریم کا جوا بشاشت سے اپنی گردن پر رکھیں اور دنیا کے لئے ایک نمونہ ہو جائیں۔۔" وقف عارضی میں شامل ہو کر قرآن کریم سیکھنے سکھانے اور دوسرے تربیتی امور کے لئے حضور نے اس تحریک کو عورتوں میں بھی جاری کرتے ہوئے فرمایا :- یہ واقفین وفد کی شکل میں دو افراد پر مشتمل ہوتے ہیں۔اس میں احمدی بہنیں بھی حصہ لیتی ہیں۔ان کو باہر صرف اس صورت میں بھیجوایا جبکہ وہ خاوندوں کے ساتھ یا والد کے ساتھ یا اپنے بھائی کے جاتا ہے ساتھ باہر جا سکیں ورنہ ان سے اپنے ہی شہر یا قصبہ میں عورتوں کی تربیت وغیرہ کے کام لئے جاتے ہیں تاکہ بہنیں بہنوں سے خدا کی رضا کی خاطر حسن معاملہ اور پیار کے تعلقات قائم کریں۔"ک حضور نے فرمایا :۔مجلس موصیان اور تعلیم القرآن " موصی صاحبان کا ایک بڑا گہرا اور دائمی تعلق قرآن کریم سیکھنے، قرآن کریم کے نور سے منور ہونے ، قرآن کریم کی برکات سے مستفیض ہونے اور قرآن کریم کے فضلوں کا وارث بننے سے ہے۔اسی طرح قرآن کریم کے انوار کی اشاعت کی ذمہ داری بھی ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے۔۔۔اس لئے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ تعلیم القرآن اور وقف عارضی کی تحریکوں کو موصی صاحبان کی تنظیم کے ساتھ ملحق کر دیا جائے اور یہ سارے کام ان کے سپرد کئے جائیں۔