حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 436 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 436

381 اختتام تک پہنچانا میرا فرض ہے اور میں آپ سے امید رکھتا ہوں کہ اس بارہ میں آپ میرے ساتھ تعاون کریں گے۔۔۔۔پاکستان کی حفاظت کے لئے بھی دوست ضرور دعائیں کریں۔کوئی مانے یا نہ مانے ہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام میں جس قلعہ ہند میں نبی کریم ملی ﷺ کے پناہ گزیں ہونے کا ذکر ہے اس سے مراد پاکستان ہی ہے۔اللہ تعالٰی ہمارے بچوں کے ذہنوں کو جلا بخشے اور سب احمدیوں کو یہ توفیق بخشے کہ ہر میدان میں ہمیشہ دوسروں سے آگے رہیں۔کہ اسی لائحہ عمل کے مطابق آپ نے مقدور بھر خدمت کی توفیق پائی جس کی ایک جھلک آپ کی سوانح میں نظر آتی ہے جس کا خاکہ پیش کیا جاتا ہے۔خاکہ سوانح حیات نافلہ موعود حضرت خلیفۃ المسیح الثالث " کی خلافت کا آغاز اللہ تعالیٰ کے عظیم الشان نشانوں کے ظہور کے ساتھ ہوا، حضرت مصلح موعود کی لمبی بیماری کی وجہ سے جماعت کے بعض کمزور طبائع میں بعض غفلتیں اور کمزوریاں بھی پیدا ہو چکی تھیں اس جسے حضور نے اپنی مقناطیسی اور دلربا شخصیت اپنی بے پناہ محبت اور غیر معمولی پر حکمت تربیت کے ذریعے پر کیا۔حضرت مصلح موعود کے تعلق باللہ کے نتیجہ میں جماعت اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان پیشگوئیوں کو پورا ہوتے دیکھنے کی عادی ہو چکی تھی۔حضرت مصلح موعود کی وفات کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کے وجود میں بھی اللہ تعالی جلوہ نما ہوا۔اور خلافت ثالثہ کے آغاز کے ساتھ ہی عظیم الشان پیشگوئیاں اور غیر معمولی نشانوں کا سلسلہ شروع ہوا جو خلافت ثالثہ کے پورے دور میں پوری شان کے ساتھ جاری رہا اور حضرت مسیح موعود کے مشن کو جس مقام تک حضرت مصلح موعود نے پہنچایا تھا۔حضرت خلیفہ ثالث نے اس میں بلندی وسعت اور تیزی پیدا فرمائی۔