حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 308
293 آپ کی بے لوث خدمت دیکھ کر ایک شخص کا احمدی ہونا رحم راجہ غالب احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ ۱۹۴۳ ء یا ۱۹۴۴ء کے جلسہ سالانہ کی بات ہے کہ ان کے والد صاحب کے ایک غیر احمدی دوست راجہ محمد نواز صاحب ان کے والد صاحب کے ساتھ سٹیج پر تشریف فرما تھے اور حضرت مصلح موعود " تقریر فرما تھے۔اس دوران ایک نہایت خوبرو نوجوان ایک میلے کچیلے دیہاتی بچے کو اٹھا کر سٹیج پر آیا تاکہ اس کی گمشدگی کا اعلان کروائے۔حضرت مصلح موعود " کوئی اہم نقطہ بیان فرما رہے تھے اور انہیں علم نہ ہوا کہ صدر مجلس خدام الاحمدیہ کوئی گمشدہ بچہ لے کر حضور کے پہلو میں کھڑے ہیں۔اس دوران راجہ محمد نواز صاحب نے دیکھا کہ بچے کا ناک بہہ رہا ہے۔اس خوبرو اور معزز نوجوان نے جیب سے رومال نکالا اور بچے کا ناک صاف کیا اور خدمت کے جذبے کے ساتھ نہایت وقار کے ساتھ بچے کو اٹھا کر کھڑا رہا۔اس نوجوان کے چہرے پر اطمینان اور بشاشت تھی اور تقریباً نصف گھنٹہ یہی کیفیت رہی حتی کہ بچہ رویا تو حضرت مصلح موعود نے اس طرف توجہ فرمائی اور بچے کا اعلان فرمایا۔راجہ محمد نواز صاحب نے دریافت کیا کہ یہ خوب صورت اور خوب سیرت نوجوان جس نے میلا کچیلا بچہ اٹھایا ہوا تھا اور اپنے رومال سے اس کا ناک صاف کر رہا تھا کون تھا؟ جب انہیں بتایا گیا کہ یہ حضرت امام جماعت احمدیہ خلیفہ المسیح الثانی کے فرزند اکبر ہیں تو وہ فوراً کہنے لگے کہ باقی مسئلے تو بعد میں طے ہوتے رہیں گے۔اگر یہ نوجوان امام جماعت احمدیہ کا بیٹا ہے تو میری فوراً بیعت کروائیں۔چنانچہ انہوں نے فوراً حضرت مصلح موعود ضیا اللہ کی بیعت کر لی۔راجہ غالب احمد صاحب فرماتے ہیں کہ وہ اس واقعہ کے عینی شاہد ہیں۔نکتہ چینی کا حسین بدلہ مکرم میاں محمد ابراہیم صاحب جمونی سابق ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوه و مبلغ