حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 286
271 بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو اپنے طلباء پر کتنا اعتماد تھا۔حفاظت مرکز کے سلسلہ میں تقدیر الہی میں آپ کا مقرر ہونا حفاظت مرکز کے سلسلہ میں ہی ایک اور واقعہ راجہ غالب احمد صاحب کے والد راجہ علی محمد صاحب سابق ناظر بیت المال قادیان (جن کو حضرت مسیح موعود کے صحابی ہونے کا بھی شرف ہے) بیان کرتے ہیں کہ دو ماہ قبل انہوں نے رویا میں دیکھا کہ سکھوں نے قادیان کی احمدی آبادی پر حملہ کیا ہے اور میاں ناصر احمد صاحب پر اللہ تعالیٰ کا خاص نور اترا ہے اور وہ بگل بجاتے ہیں اور دشمن بھاگ جاتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ نے ۱۹۴ء کے جب فسادات شروع ہوئے تو ایک روز وہ حضرت مسیح ہیں۔موعود علیہ السلام کے خاندان کے ایک مکان میں تھے اور دوسرے میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب۔سکھوں نے جب پہلا حملہ کیا تو آپ اطمینان سے اٹھے، چہرے پر نور تھا، وجد کی سی کیفیت تھی اور بگل بجایا۔یہ پہلے طے شدہ تھا کہ حملہ کے وقت کارروائی شروع کرنے سے پہلے بگل بجایا جائے گا۔آپ نے جوں ہی بگل بجایا اور کارروائی کا آغاز ہوا یوں لگ رہا تھا جیسے اسرافیل بگل میں پھونک رہا ہے۔بگل کی آواز میں اتنا رعب اور ہیبت تھی کہ سکھ جنگل کی آواز پر بھاگ نکلے اور بالکل غائب ہو گئے۔راجہ علی محمد صاحب کی آنکھوں کے سامنے اس وقت دو ماہ پر انا رویا آگیا اور انہوں نے وہی نور آپ کے چہرے پر دیکھا جو انہیں خواب میں دکھایا گیا تھا۔آپ نے حفاظت مرکز کا مرحله نهایت زہد و تقویٰ اور عبادت میں گزارا۔چنانچہ محترم عبد السلام صاحب سابق باڈی گارڈ حضرت اقدس بیان کرتے ہیں:۔جس روز یعنی ۴۔اکتوبر ۱۹۴۷ء کو سکھوں نے قادیان پر حملہ کیا اس دن ہم پہلے حضرت میاں شریف احمد صاحب معنی اللہ کی کو ٹھی دار الفضل میں تھے۔وہاں سے ہمیں کیپٹن شیر ولی صاحب نے بورڈنگ تحریک جدید بلایا اور حکم دیا کہ جا کر دار الرحمت اور دارالعلوم کے تمام عورتیں اور بچے خالی ہاتھ بورڈنگ میں لے آؤ۔وہ ہم لے آئے۔اس