حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 287 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 287

272 - دن باہر کے محلوں کی عورتیں، بچے بورڈنگ میں اکٹھے کر لئے اور اندر کے محلوں کی عورتیں اور بچے قصر خلافت میں اکٹھے کر لئے۔ہمارا قصر خلافت سے رابطہ ٹوٹ گیا تھا۔کرفیو لگا ہوا تھا، شام کے وقت پولیس اور فوج نے اعلان کیا کہ صبح تمام لوگ قافلہ میں جائیں گے۔چونکہ ہم ایک نظام کے تحت تھے جب تک صدر صاحب خدام الاحمدیہ کا حکم نہ ملے ہم قادیان چھوڑنے کو تیار نہ تھے۔آخر رات کے اندھیرے میں کیپٹن شیر ولی صاحب نے مجھے اور فضل الہی صاحب مرحوم کو جو بعد میں ۳۱۳ دریشوں میں قادیان رہ گئے، اڑھائی بجے کے قریب بھیجا کہ آپ قصر خلافت جا کر حضرت میاں ناصر احمد صاحب کو یہاں کے حالات بتائیں کہ یہاں فوج اور پولیس نے قافلہ میں جانے کے لئے کہا ہے۔ہمارے لئے کیا حکم ہے؟ ہم دونوں گئے اور میاں ناصر احمد کو ملے جو مسجد مبارک کے ساتھ والے کمرہ میں تھے اور تہجد پڑھ کر ابھی مصلے پر ہی تھے۔ہم نے حالات بتائے۔انہوں نے ہمیں کہا کہ ابھی واپس جائیں اور شیر ولی صاحب کو کہیں کہ قافلہ کے ساتھ کوئی نہ جائے۔یہ ان کی شرارت ہے۔" ان حالات میں خدام نے نہایت اطاعت کا نمونہ دکھایا۔وہ آپ کے تمام حکموں کی تعمیل کرتے تھے۔چنانچہ چوہدری محمد انور حسین صاحب امیر ضلع شیخوپورہ بیان کرتے ہیں۔وو دلیری کے ساتھ اردگرد کا انتظام فرماتے اور دورے کرتے۔ایک دفعہ مجھے فرمایا کہ جائیں اور چکر لگا کر آئیں۔قریبی گاؤں راجپورہ جو نہر کے کنارے تھا گئے تو سارے گاؤں والے چھوڑ کر بھاگ گئے۔میں نے انہیں بتایا کہ مجھے مرزا ناصر احمد صاحب نے بھیجا ہے تو لوگوں نے شکریہ ادا کیا۔یہ حضور کی جرات دلیری تھی کہ خدام کو بھی اسی حالت میں رکھتے چنانچہ جس شخص کو بھی حکم دیتے وہ اپنی جان پر بھی