حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 264 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 264

249 خدام الاحمدیہ مرکزیہ نے میرے اس احتجاج کے باوجود جو احساس کم مائیگی سے نکلا تھا مجھے خدام الاحمدیہ کا صدر تجویز کر کے میرا نام صدارت کے لئے حضرت مصلح موعود کی خدمت میں بھجوایا۔۔۔اس وقت مجلس خدام الاحمدیہ نئی نئی قائم ہوئی تھی اس کا کوئی دستور بھی نہیں تھا۔نیا نیا کام تھا۔اس کو چلانے کا کوئی تجربہ بھی نہیں تھا۔۔۔۔میں سمجھتا ہوں کہ اگرچہ میری طبیعت کا کوئی پہلو بھی اس وقت صدارت کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھا لیکن جو کام میرے سپرد کیا گیا اس کے نتیجہ میں مجھے انتظامی لحاظ سے بھی اور روحانی لحاظ سے بھی et بہت فائدہ حاصل ہوا۔" ہی حضرت مصلح موعود کی رہنمائی میں آپ نے مجلس خدام الاحمدیہ کے اکثر بنیادی کام کئے موجودہ دستور اساسی اور خدام الاحمدیہ کا لائحہ عمل زیادہ تر آپ ہی کی محنت کا ہے۔نئی مجالس قائم کرنے اور ان میں مسابقت کی روح پیدا کرنے کے لئے آپ نے اکتوبر ۱۹۳۹ء میں ہی ملک میں مجالس کے دورے شروع کر دیئے۔لوائے خدام الاحمدیہ کی حفاظت کے لئے عہد کا مسودہ تیار کیا۔اجتماعات کا اہتمام فرمایا ، جلسہ سالانہ پر ڈیوٹیاں دینے کا باقاعدہ انتظام شروع کروا دیا۔وقار عمل اور اس طرح کے کئی پروگرام آپ کے عہد میں شروع ہوئے۔بعض دقتیں بھی پیش آئیں لیکن محنت اور تجربے سے مجلس کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔بعض ابتدائی دقتوں اور تجربات کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:۔" مجھے یاد ہے کہ شروع میں جب قادیان میں باہر کیمپ کی شکل میں خدام الاحمدیہ کا سالانہ اجتماع کیا تو اس وقت چونکہ نیا نیا کام تھا اور تجربہ نہیں تھا اس لئے یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ مقام اجتماع کے گرد بانس کیسے لگاتے ہیں اور ان پر رسیاں کیسے باندھی جاتی ہیں۔میں اس وقت جامعہ احمدیہ کا پرنسپل تھا۔جامعہ کے میرے شاگرد اور میں خود بھی کئی دن خرچ کرتے اور چھوٹے رنبوں کے ساتھ گڑھے کھود کر ان کے اندر