حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 249 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 249

234 کے عزائم کیوں نہ پورے ہوں گے ، ۱۱۲ خوبصورت پر وقار اور با رعب شخصیت آپ کی شخصیت میں خاندانی وجاہت، غیر معمولی رعب اور جلال تھا۔طبیعت میں سادگی درویشی اور مزاح تھا چہرے پر مسکراہٹ اور اللہ تعالیٰ کا نور نظر آتا تھا۔آپ کی وجاہت اور خوبصورتی کا یہ عالم تھا کہ سادہ سے سادہ لباس بھی آپ کو سج جاتا تھا اور آپ کے وجیہ چہرے اور رعب دار وجود کو دیکھ کر کبھی کسی کا لباس کی طرف دھیان ہی نہ جاتا تھا۔چوہدری محمد علی صاحب بیان کرتے ہیں:۔حضور " عاجز نے ایک دفعہ المنار میں لکھا کہ اچکن مہنگا لباس ہے۔نے چند آنے گز کی اچکن ربوہ سے سلوائی۔کالج اس زمانے میں لاہور میں تھا۔سبز رنگ اور سفید دھاریوں والا کھدر نما کپڑا تھا۔جب زیب تن فرمائی تو سج گئی۔اس اچکن کی کچھ خوبی نہ تھی اگر مجھ جیسا پہنتا تو اچکن بنوانے پر غریب کو آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جاتا۔عاجز نے کئی مرتبہ دیکھا کہ اسی اچکن کو پیوند لگا ہوا ہے لیکن دیکھنے والے کا کپڑے کی طرف دھیان ہی نہیں جاتا تھا یوں لگتا تھا جیسے کوئی قیمتی کپڑا پہنا ہوا آپ بڑی بڑی تقریبوں میں شامل ہوتے حضور کے داخل ہوتے ہی ہو۔حاضرین مجلس کی توجہ آپ کی طرف ہو جاتی ۳ال آپ کو جو رعب اور وقار اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہوا تھا اس کا ذکر کرتے ہوئے آپ کے ایک شاگرد مکرم قریشی سراج الحق صاحب بیان کرتے ہیں:۔" خدا تعالیٰ نے آپ کو جہاں تک خوش رنگ و خوبصورت شخصیت عطا کی تھی وہاں آپ کو ایک خاص رعب اور وقار بھی عطا کیا ہوا تھا۔ایسا رعب اور وقار جو کسی ادارہ کے سربراہ تو کجا کسی سربراہ مملکت میں بھی دکھائی نہ دیتا ہو گا۔آپ کا یہ خدا داد رعب ہی تھا کہ جب آپ