حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 208
193 لاہور سے کالج کی ربوہ منتقلی اور کالج کی کار کردگی میں آپ کا غیر معمولی کردار تعلیم الاسلام کالج ربوہ کی بلڈنگ مکمل ہونے پر ۶ دسمبر ۱۹۵۴ء کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ نے اس کا افتتاح فرمایا اور اس طرح تعلیم الاسلام کالج اپنے پہلے دو مراحل میں سے گزر کر تیسرے اور آخری مرحلے میں داخل ہوا۔۱۹۴۴ء میں کالج کا قیام عمل میں آیا تھا اور تین سال کالج قادیان میں رہا۔۱۹۴۷ء سے ہجرت کی وجہ سے کالج عارضی طور پر لاہور منتقل کر لیا گیا اور وہاں کالج سات سال تک جاری رہا۔اب تک کر کالج کے قیام پر دس سال کا عرصہ گزر چکا تھا۔اس طرح دو مراحل میں سے ہو ۱۹۵۴ء میں کالج ربوہ میں منتقل ہو گیا۔۶۵۔جہاں پرنسپل حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی بے لوث محنت اور ہمت کے نتیجہ میں کالج کی کارکردگی اپنے معراج کو پہنچی جو مشاہدہ آپ نے آکسفورڈ میں کیا تھا اور جو لائحہ عمل آپ نے کالج کے آغاز پر حضرت مصلح موعود کی خدمت میں پیش کیا تھا اور جو تجربہ آپ نے گزشتہ دس سالوں میں حاصل کیا تھا انہیں بروئے کار لا کر آپ نے کالج کو بہت بلندی تک پہنچا دیا۔تعلیم الاسلام کالج قادیان کے آغاز پر اپنی ابتدائی رپورٹ میں جو کالج کے افتتاح کے موقع پر پڑھی گئی حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے حضرت المصلح الموعود خلیفة المسیح الثانی کو بڑے احترام سے مخاطب کرتے ہوئے کالج کے طریق کار کا ایک مختصر سا ڈھانچہ پیش فرمایا تھا۔سید نا! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاته کالج کمیٹی کی ہدایت کے ماتحت خاکسار تعلیم الاسلام کالج کے داخلہ کے متعلق ابتدائی رپورٹ اور کالج کے طریق کار کا ایک مختصر سا ڈھانچہ پیش کرتا ہے۔(1) اس وقت اللہ تعالیٰ کے فضل سے۔۔۔۔طلباء داخل کئے جاچکے ہیں۔۔۔۔تربیت کے علاوہ تعلیم الاسلام کالج کو ان طلبہ کی تعلیم کی طرف