حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 144
129 غسل اور تیراکی کے مقابلوں کے علاوہ آپ نے ہمارے کھانے اور پھلوں کا انتظام اپنی خاص نگرانی میں فرمایا۔جب کھانا کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ اب جامعہ احمدیہ کے طلباء کا تقریری مقابلہ ہو گا۔ہر مقرر کو تین منٹ قبل مضمون کا عنوان بنایا جائے گا اور تقریر بھی صرف تین منٹ کی ہو گی۔کچھ طلباء نے اپنے نام خود لکھوائے کچھ کے آپ نے اور اساتذہ کرام نے خود لکھوائے۔آپ مجھے مخاطب کر کے فرمانے لگے۔خورشید ! تم نے نام نہیں لکھوایا۔میں نے عرض کی مجھے نے سخت نزلہ زکام ہے ، گلا بیٹھا ہوا ہے، میں کیا تقریر کروں گا؟ آپ فرمایا۔نہیں۔تم تقریر کرو گے۔میں نے تمہارا نام لکھ دیا ہے۔میں ادبا و احترانا خاموش رہا۔دوسری تقریر شروع ہوئی تو حضور اقدس نے مجھے فرمایا کہ اس کے بعد تمہاری تقریر ہو گی عنوان ہے "آسمانی باد ہشاہت "۔عنوان سنتے ہی کچھ پریشان ہوا کہ میں اس وسیع و عریض مضمون کو تین منٹوں میں کیسے سمیٹوں؟ ابھی اس ادھیڑ بن میں تھا کہ آپ نے مجھے آواز دی کہ اب تم تقریر کرو۔میں تقریر کے لئے کھڑا تو ہو گیا لیکن تقریر کے ختم ہونے تک مجھے یہ احساس نہ تھا کہ میں کیا بیان کر رہا ہوں۔بہر حال تقریر ختم ہوئی۔نتیجہ نکلا تو میں اول رہا اور حضور اقدس اور جملہ اساتذہ بھری مجلس میں میری تعریف کر رہے تھے۔میں نے حضور سے عرض کی یہ آپ کی نظر اور توجہ کی تاثیر سے ہوا ہے۔آپ نے جو اصرار کیا تھا کہ میں تقریر کروں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی توجہ سے آپ کے روحانی علوم کا کچھ اثر اس عرصہ میں خاکسار پر بھی ہو گیا ورنہ من آنم کہ من دانم طلباء سے شفقت و احسان کا سلوک آپ کی یہ عادت تھی کہ اپنے شاگردوں کی کسی نہ کسی رنگ میں مدد فرماتے اور