حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 107 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 107

92 تیاری کی ضرورت ہے جس طرح سپاہی صرف بندوق پکڑ کر نہیں لڑ سکتا بلکہ اسے فنون جنگ کے سیکھنے اور ان کی مشق کرتے رہنے کی ضرورت ہے۔اسی طرح دین کے سپاہی کو بھی ایک لمبی اور مستقل مشق کی ضرورت ہے۔اس لئے اپنے ہر کام میں سادگی پیدا کرو۔تمہارا اصل لباس غربت ہو۔اس کے بغیر تم اپنا عہد پورا کرنے کے قابل نہ ہو گے۔اور نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا خدا تعالیٰ کی ناراضگی کو خرید لو گے۔چاہئے کہ تمہارا لباس تمہارا کھانا پینا تمہاری رہائش سادہ ہو۔اور انکسار طبیعت کا خاصہ ہو جائے۔کیونکہ خدمت کرنے والا خدمت گار ہوتا ہے۔اگر ایک انسان کی چال ڈھال اور اس کا قول و گفتگو خدمت گاری پر دلالت نہیں کرتا تو وہ خدمت کر ہی کس طرح سکتا ہے۔خدمت کا میدان غرباء میں ہوتا ہے۔ایسے آدمی کے تو غرباء پاس بھی نہیں آتے۔اگر کوئی تمہارا خادم ہو تو اسے بھائی کی طرح سمجھو دل میں شرمندگی محسوس کرو کہ ایک بھائی سے خدمت لینے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ہر ایک ادنیٰ اور اعلیٰ سے محبت کرو اور پیار۔اور اخلاق سے ملو۔بڑوں کا ادب کرو اور چھوٹوں پر شفقت۔اپنے کی بناء پر یا اگر نیکی کی توفیق ملے اس کی بناء پر لوگوں پر بڑائی نہ ظاہر کرو۔کہ اس سے نیکی برباد ہو جاتی ہے اپنے آپ کو سب سے چھوٹا ، سمجھو کہ عزت وہی ہے۔جو انکساری میں ملتی ہے۔جسے خدا اونچا کرے۔وہی اونچا ہے اپنے کسب سے کمائی ہوئی عزت عزت نہیں۔لوٹا ہوا مال ہے جو عزت کی بجائے ذلت کا موجب ہے۔ہر حالت میں دینی خدمت سے غافل نہ ہو۔اپنے نفس پر خرچ کرنے کی بجائے دین پر اور غرباء پر خرچ کرنے کو ترجیح دو مجھے بچپن میں تین روپے ملا کرتے تھے۔اس میں سے خرچ کر کے تشخیذ الاذھان چلایا کرتا تھا۔بعض اور دوست بھی اس میں شامل تھے۔وہ بھی میری طرح بے سامان تھے۔پھر