حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 106 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 106

91 پس ان سامانوں کو نظر انداز نہ کرو۔رسول کریم میں یہ فرماتے ہیں لم كه اَلَا لِكُلِّ مَلِكٍ حِمَى وَ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ - کان کھول کر سن لو کہ ہر بادشاہ کی ایک رکھ ہوتی ہے کہ جو شخص اس رکھ میں داخل ہوتا ہے سزا پاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رکھ اس کے مقرر کئے ہوئے محارم ہیں۔پھر فرمایا عظمند انسان وہ ہے۔جو رکھ کے پاس بھی اپنے جانور نہ چرائے۔کیونکہ غلطی سے بھی جانور اندر چلے گئے۔تو یہ مصیبت میں مبتلا ہو جائے گا۔پس کھانے کے معاملہ کو معمولی نہ سمجھو۔جہاز پر بھی اور ولائت جا کر بھی یاد رکھو۔انگریزی جہازوں پر پرند گلا گھونٹ کر مارے جاتے ہیں۔دوسرا گوشت وہ اکثر بمبئی سے خریدتے ہیں۔حلال کھانے والے کے لئے وہ پرند کے ذبیحہ کا بھی انتظام کر دیتے ہیں۔اس کی کوشش جہاز کے افسروں سے کر لینا۔ورنہ دوسرا گوشت اگر ذبیحہ کا ہو تو صرف وہ کھانا پرند کا گوشت نہ کھانا۔خدمت دین کے لئے تیاری کے متعلق ضروری ہدایات میں شاذو نادر طور پر بعض فوائد کے لئے سینما کی غیر معیوب فلموں کو دیکھ لینا جائز سمجھتا ہوں لیکن ناچ کی محفلوں میں شامل ہونا بہت معیوب ہے۔اور اس سے پر ہیز چاہئے۔جوئے کی قسم کی سب کھیلوں سے پر ہیز چاہئے۔سینما وغیرہ سے بھی حتی الوسع پر ہیز ہی چاہئے۔لیکن سال میں ایک دو دفعہ دیکھنے کا موقع ہو اور فلم گندی نہ ہو تو حرج نہیں۔مگر احتیاط کے سب پہلو مد نظر رہیں۔تم نے زندگی وقف کی ہوئی ہے زندگی وقف کرنے کے یہ معنی ہیں کہ انسان دنیا کے عیش و عشرت اور آرام و آسائش کو ترک کر دے اور دین کی خدمت میں اپنی ہر طاقت صرف کر دے۔یہ امر صرف ارادہ سے حاصل نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لئے ہر روز کی تربیت اور