حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 61 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 61

61 کے لئے باقاعدہ جاتے تھے۔آپ کی شرافت سے آپ کے ساتھی اور پروفیسر سب متاثر - چنانچہ آپ کے عربی کے ایک پروفیسر مولوی کریم بخش صاحب جماعت کے ساتھ تعصب کے باوجود آپ کی شرافت کی تعریف کیا کرتے تھے۔کرنل مزار داؤد احمد صاحب کا بیان ہے کہ مولوی کریم بخش صاحب باوجود اپنی مذہبی تنگ نظری کے ہمیشہ تعریف کیا کرتے تھے۔کہا کرتے تھے ناصر احمد بڑا شریف انسان ہے۔جن لوگوں نے آپ کو اس زمانے میں دیکھا۔انہیں آپ کے اندر بہت خوبیاں نظر آئیں جیسے وقت کی قدر کرنا ضبط نفس ، غیبت اور حسد سے نفرت اور خدمت دین کا غیر معمولی جذ بہ وغیرہ جس کے لئے آپ نے ایک تنظیم بھی قائم فرمائی تھی۔چنانچہ اس زمانہ کے آپ کے ایک احمدی دوست ڈاکٹر عبدالرشید تبسم صاحب پی ایچ ڈی کا بیان ہے کہ جب کالج میں ان کا آپ سے واسطہ پڑا تو بہت جلد آپ کی تین خوبیاں ان پر نمایاں ہو گئیں۔وہ لکھتے ہیں :۔ه " پہلی خوبی حضور کی یہ تھی کہ بڑے سے بڑے حادثے کا روشن پہلو تلاش کر لیتے۔حادثہ بہر حال حادثہ ہوتا ہے لیکن منطقی طور پر اس کا کوئی روشن پہلو نظر آ جائے تو انسان کو مایوسی کی ظلمت میں بھی روشنی کی کرن نظر آ جاتی ہے چنانچہ جس دوست پر بھی کوئی مصیبت آجاتی وہ حضور کی گفتگو سن کر کچھ نہ کچھ اطمینان پالیتا۔دوسری خوبی حضور کی یہ تھی کہ حضور کی طبیعت میں نہایت لطیف مزاح فراواں تھا۔بے تکلف دوستوں میں حضور اکثر باتوں کو لطائف کا رنگ دے لیتے۔کشادہ اور خندہ پیشانی، ہونٹوں پر مسکراہٹ آنکھوں میں غیر معمولی پرکشش چمک جادو کا اثر کرتی۔جس کسی سے حضور مخاطب ہوتے وہ مسحور ہو جاتا۔تیسری خوبی یہ تھی کہ حضور کسی کی غیبت کبھی نہ فرماتے۔کسی دوست یا عزیز میں کوئی کمزوری دیکھ پاتے تو اسے ایک لطیفے کی شکل دے