حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 60 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 60

60 دنیا کی کھیل کود میں ناصر پڑے ہو کیوں یاد خدا میں دل کو لگاتے تو خوب تھا لاہور میں طالب علمی کا زمانہ حفظ قرآن اور دینی تعلیم کے حصول تک آپ قادیان میں رہے۔اس کے بعد پرائیویٹ طالب علم کے طور پر مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا اور پھر پورے مضامین کے ساتھ میٹرک کیا۔اس طرح ۱۹۳۰ء تک آپ کا قیام قادیان میں رہا۔میٹرک پاس کرنے کے بعد آپ نے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا اور احمدیہ ہوسٹل میں رہائش رکھی جو پہلے ٹمپل روڈ کی ایک کو ٹھی میں تھا اور پھر بہاولپور روڈ پر منتقل ہو گیا۔کالج میں آپ اچکن سفید شلوار قمیض اور رومی ٹوپی پہنتے۔کبھی کبھی آپ کالج کا سرخ بلیزر بھی پہنتے جس پر سنہری مشعل کا نشان تھا۔ایف اے میں آپ کے مضامین عربی، تاریخ ، انگلش اور فلاسفی تھے اور بی اے میں عربی، انگلش اور فلاسفی تھے۔آپ کی طبیعت میں وقار شرم و حیا اور شرافت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔گورنمنٹ کالج لاہور میں بعض روساء کے لڑکے بھی پڑھتے تھے لیکن آپ کبھی ان کی امارت اور ٹھاٹھ سے مرعوب نہیں ہوئے۔کالج میں آپ لیگ میچوں میں فٹ بال کھیلا کرتے تھے اور کالج کی فرسٹ الیون میں سے تھے۔علاوہ ازیں آپ بعض تقریری مقابلہ جات میں بھی حصہ لیتے تھے۔ہوسٹل میں آپ نہایت متانت اور وقار کے ساتھ رہتے تھے اور بہت مہمان نواز تھے۔آپ کے والد محترم آپ کو مہمان نوازی کے لئے الگ رقم بھیجا کرتے تھے۔آپ کے چچا زاد بھائی کرنل (ریٹائرڈ) مرزا داؤد احمد صاحب کا بیان ہے کہ : " عام خرچ کے علاوہ جو۔/۷۵ روپے ماہوار حضرت مصلح موعود - سے ملتا تھا۔آپ کو۔/ ۱۵ روپے ماہوار مہمان نوازی الاؤنس ملا کرتا et تھا۔۳۸ آپ بہت محنت اور سنجیدگی سے کالج کی پڑھائی کرتے تھے اور گراؤنڈ میں بھی کھیلنے