حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 484 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 484

429 مبارک کو حضور کے گھر کے ڈرائنگ روم میں رکھا گیا۔برف کی سلیں کثرت سے کمرے کا درجہ حرارت کم کرنے کے لئے استعمال ہو ئیں۔اپنے محبوب امام کے آخری دیدار کے لئے سسکیاں لیتے اور آنسو بہاتے مرد و زن اور بچے 19 جون کی شام اور ۱۰ جون قبل دو پہر تک قطاروں میں دعائیں کرتے ہوئے اور ذکر الہی اور درود سے زبانیں ترکئے ہوئے نعش کے پاس سے مسلسل ایک نظام کے تحت گزرتے رہے اور کم و بیش دو لاکھ مرد و زن نے حضور کا آخری دیدار کیا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ بیماری کے دوران حضور نے انتہائی صبر و تحمل کا نمونہ پیش فرمایا۔حضور کے چہرے پر مسکراہٹ قائم رہی کیونکہ حضور فرمایا کرتے تھے ”ہم احمدی مسلمان ہیں ہمارا یقین ہے کہ زندگی موت کے ساتھ ختم نہیں ہو گی۔بس چلتے چلتے ایک لائن کو پھلانگا اور اگلی زندگی میں چلے گئے " ڈاکٹروں کی آخری رپورٹ و جون کے الفضل میں ڈاکٹروں کے پینل کی مندرجہ ذیل رپورٹ شائع ہوئی۔بسم الله الرحمن الرحيم ” سید نا حضرت مرزا ناصر احمد خلیفہ المسیح الثالث کی دل کی حرکت ۸۔۹ جون ۱۹۸۲ء کی درمیانی شب کو دوبارہ دل کا شدید دورہ پڑنے کی وجہ سے بارہ بج کر پانچ منٹ پر اچانک بند ہو گئی اور سانس رک گیا فوری طبی امداد کے نتیجہ میں سانس اور حرکت قلب عارضی طور پر جاری ہو گئے لیکن مسل جدوجور کے باوجود حضور بارہ بج کر ۴۵ منٹ پر وفات پاگئے اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ڈاکٹر لطیف احمد قریشی ( بوه) ڈاکٹر مبشر احمد (ربوہ) ڈاکٹر شاہد احمد (نیویارک) میجر ڈاکٹر مسعود الحسن نوری (راولپنڈی)