حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 483 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 483

428 صاحبزادہ مرزا مبشر احمد اور اسی طرح راولپنڈی کے جنرل محمود الحسن ، میجر مسعود الحسن نوری اور دیگر کئی ڈاکٹر خدمات کی توفیق پاتے رہے۔دنیا بھر کی جماعتوں میں دعاؤں صدقات اور تجد باجماعت کی تحریکیں کی گئیں۔ساری جماعت اپنے امام کی صحت کی بحالی کے لئے مجسم دعا بن گئی۔۵ جون کو طبیعت نسبتاً بہتر ہو گئی۔حضور ڈاکٹری مشورہ کے مطابق تھوڑی تھوڑی دیر کے لئے کھانے اور دیگر ضروریات کے لئے بستر سے باہر کرسی پر تشریف فرما رہے۔امریکہ سے احمدی ماہر امراض قلب ڈاکٹر شاہد احمد بھی اسلام آباد پہنچ کر معالجین کے پینل میں شامل ہو گئے۔۷ جون کو حضور کی طبیعت نسبتاً بہتر رہی ، کھانسی بھی کم رہی ، دل کی حالت بھی نسبتاً بہتر رہی، چند دن قبل بخار ہو گیا تھا وہ بھی اتر گیا تھا اور شکر کی مقدار خون میں تسلی بخش پائی گئی، حضور کچھ وقت بستر سے باہر کرسی پر رونق افروز رہے۔۸ اور ۹ جون کی درمیانی رات نصف شب کے قریب حضور کی طبیعت یکدم زیادہ خراب ہو گئی اور ڈاکٹروں کی انتہائی کوشش کے باوجود ۸ اور ۹ جون ۱۹۸۲ء مطابق ۱۶۴۱۵ شعبان ۱۴۰۲ هجری منگل اور بدھ کی درمیانی شب پونے ایک بجے کے قریب بیت الفضل " اسلام آباد میں حضور انتقال فرما گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ اس وقت حضور کی عمر تقریباً تہتر (۷۳) سال تھی۔حضور کے انتقال کے دلخراش سانحہ کی اطلاع فوری طور اندرون اور بیرون پاکستان بھجوا دی گئی۔یہ اطلاع ملتے ہی جملہ احباب کرام پاکستان کے طول و عرض سے ربوہ پہنچنے شروع ہو گئے۔حضور کے جسم اطہر کو صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب قائمقام ناظر اعلیٰ کی قیادت اور حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب اور حضور کے بچوں اور دیگر احباب کی معیت میں 9 جون کو اسلام آباد سے ربوہ لایا گیا۔بیت الفضل اسلام آباد سے روانگی فجر کی نماز کے فوراً بعد عمل میں آئی۔روانگی سے قبل حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کی تحریک پر صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب نے اجتماعی دعا کروائی اور قافلہ اسلام آباد سے ربوہ روانہ ہوا۔اس موقعہ پر دو بکروں کا صدقہ بھی دیا گیا۔شدید گرمی کے موسم کے باوجود جوق در جوق لوگ ربوہ پہنچنے لگے۔حضور کی نعش