حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 336
321 وقت سے اس وقت تک سینکڑوں (اگر ہزاروں نہیں) نئی تبدیلیاں اور حضور کے نئے ارشادات آچکے ہیں ان سب کو جمع کرنا ہے۔۔۔۔یہ ایک مسودہ کی شکل اختیار کر چکا ہے اس پر نظر ثانی کے بعد۔۔۔۔مجھے امید ہے کہ آئندہ جلسہ سے پہلے پہلے انشاء اللہ اس کی طباعت اور اشاعت ہو جائے گی" ۵۶ اللہ تعالی کی مثیت کے تحت نومبر ۱۹۶۵ء میں آپ خلیفہ المسیح الثالث کے منصب پر فائز ہو گئے اور حسب وعدہ آپ نے صدر انجمن احمدیہ قادیان کے قواعد و ضوابط جو ۱۹۳۸ء میں طبع ہوئے تھے پر نظر ثانی کرنے اور اس کے بعد ۱۹۶۵ء تک ہونے والی ترمیمات اور مجلس مشاورت کے ان فیصلوں کو جو قواعد کا رنگ رکھتے تھے تلاش کر کے ان قواعد میں شامل کرنے کے لئے نو افراد پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی اور ان کے ترتیب شدہ مسودہ کو بنفس نفیس خلافت کے ابتدائی دنوں (۱۹۶۶ء) میں ملاحظہ فرمایا اور بیشتر مقامات پر اپنے دست مبارک سے ترامیم فرمائیں اور اسے منظور فرما کر شائع کرنے کی اجازت دی۔اس طرح صدر انجمن احمدیہ پاکستان کے قواعد و ضوابط جو جولائی ۱۹۲۶ء میں شائع ہوئے یہ آپ کی بہت اہم اور تاریخی خدمت ہے۔عفو و درگزر کا ایک واقعہ محترم سید عبدالحی صاحب ناظر اشاعت لکھتے ہیں:۔" حضور بڑی بارعب شخصیت کے مالک تھے لیکن دل بہت نرم تھا اور اس نرمی پر آسانی سے کسی کو آگاہ نہیں ہونے دیتے تھے۔میرے ایک بزرگ خواجہ عبدالعزیز ڈار آسنور مقبوضہ کشمیر کے ایک مخلص احمدی تھے۔بڑھاپے سے پہلے طبیعت کے بہت تیز تھے۔حضور جن دنوں صدر صدر انجمن احمد یہ تھے خواجہ صاحب کا ایک احمدی کے ساتھ لین دین کا معاملہ تھا جس کی شکایت انہوں نے حضور کو بھی کی تھی اسی سلسلہ میں آپ نے حضور کی خدمت میں چند خط ایسے بھی لکھے جن کا لہجہ رشت تھا۔حضرت مصلح موعود کی وفات پر جب انتخاب خلافت کا ย