حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 298 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 298

283 کہا۔آپ کے صاحب تو ”بڑے کرنی والے ہیں یہ گفتگو خاص بلند آواز سے نہیں ہو رہی تھی مگر آپ نے سن لی اور فوراً مڑ کر ہمارے پاس آئے اور گائیڈ سے مخاطب ہو کر فرمایا۔ہاں الامل را دیکھو اس میں کسی کرامت کا دخل نہیں ہے اگر چاہو تو میرے جیسے کرنی والے تم بھی بن سکتے ہو۔بس اتنا کیا کرو کہ جب آموں کو بور آجائے تو موسم میں اس بور کو اچھی طرح اپنے ہاتھوں میں رگڑ رگڑ کر مل لیا کرو۔اس بور کا کم از کم سال بھر اثر ضرور رہتا ہے پھر ہنس کر فرمایا ایسا کرنے کے بعد تم بھی میری طرح کرنی والے بن جاؤ گے۔اس وضاحت و نصیحت کے بعد جب ہم نے اپنا سفر شروع کیا تو مجھے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ثاقب ! یہ بھی شرک کی ایک قسم ہے۔شرک ہمیشہ باریک در باریک راہوں سے انسانی جذبات و محسوسات پر وار کرتا ہے اسے اس کا موقع نہیں دینا چاہئے اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ فوراً ہی بتا دوں کہ یہ تاثیر دراصل اللہ تعالیٰ نے اس بور میں برکھ دی ہے۔بور رچے ہاتھ زخم پر پھیرنے سے گھر۔پھڑ اور بچھو تک کا درد اور زہر خدا تعالی کے فضل - سے جلد دور ہو جاتا ہے۔عطائی اور فریب کار اس کو معجزہ کے طور پر پیش کر کے ہی جہلا کو لوٹتے رہتے ہیں۔اگلا سارا دن فرقانی مجاہدین اور رات ان خیالوں کے دیر موں میں گزری۔رات کے گیارہ بجے تک تو باتیں ہوتی رہیں۔مجھے سے میرا کلام سنتے رہے اور پھر ابھی آنکھ لگی ہی تھی کہ تڑ تڑ کی آوازوں سے کھل گئی۔آپ فوراً یہ آوازیں سنتے ہی رائفل پکڑ کر سکائی لائن کی طرف بھاگ پڑے۔معلوم ہوا کہ بربط کے جیالوں کی پیٹرول پارٹی کی ریچھ کے سپاہیوں کی پڑول پارٹی سے مٹھ بھیر ہو گئی تھی جس میں دشمن کے دو فوجی ڈھیر ہوئے۔یہ مڈ بھیٹر اس رات تین دفعہ ہوئی گویا یہ