حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 297
282 حضرت صاحبزادہ صاحب نے نیچے آکر فرمایا "کل صبح صبح ہی تیار ہو کر آ جاؤ ہمیں سرائے عالمگیر اور پھر بربط جانے کا حکم ہوا ہے فرقانی رضاکاروں سے ملنے کے لئے۔اور اگلے دن دوپہر سے بھی قبل ہی ہم۔احمدی رضاکاروں کی بٹالین فرقان فورس کی ابتدائی تربیت گاہ (Base Camp) میں تھے۔حضرت فاتح الدین نے کیمپ کے انچارج سے کچھ باتیں کیں ، ہدایات دیں اور کچھ مشورے عطا فرمائے اور پھر مجاہدین کے ساتھ کھانا کھانے کے بعد ہم اپنی ولزلی چھوڑ کر مارف (Marph) ہیڈ کوارٹر میں پہنچے۔حضور وہاں بی ایم اور ڈی کیو سے ملے۔دیر تک محاذ جنگ اور فرقانی رضا کاروں کی جان سپاریوں کی باتیں ہوتی رہیں۔حضرت صاحبزادہ صاحب کے ارشاد پر میں نے چند نظمین بھی سنائیں پھر چائے کے بعد ہمیں وہاں سے بھمبر پہنچا دیا گیا جہاں سے ہمیں رات گئے چاند کے طلوع ہونے کے بعد براستہ سوکھا تالاب قلعہ باغ سر کی طرف پیدل اپنا سفر شروع کرنا تھا کہ دن کے وقت یہ سفر اس لئے ممکن نہ تھا کہ ہر وقت فضا میں تارا سنگھ (بھارتی بمباروں کا کوڈ نام) منڈلاتے رہتے تھے۔بھمبر سے سوکھا تالاب جاتے ہوئے راستہ میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا کہ جو گائیڈ ہمیں راہنمائی کے لئے دیا گیا تھا وہ چلتے چلتے ایک دم ایک جگہ بیٹھ کر اپنا دایاں ٹخنہ پکڑ کر کراہنے لگا حضور جو چند قدم پیچھے تھے کی فوراً بھاگ کر اس کے پاس پہنچے۔معلوم ہوا کہ اسے بچھو نے ڈس لیا۔حضور نے اس تا سی اور اس کے سامنے بیٹھ کر بسم اللہ اور ھو الشافی پڑھ کر اس کے ٹخنے کو سہلانے لگے۔یہ عمل کوئی دو یا تین منٹ تک جاری رہا اس کے بعد اس شخص کے چہرے پر رونق ابھرنے لگی یہاں تک کہ وہ ہشاش بشاش اچھل کر کھڑا ہو گیا اور قافلہ پھر روانہ ہو پڑا۔حضور آگے آگے تھے ہم دونوں پیچھے پیچھے تھے کہ اس نے مجھ سے