حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 271
256 اس لئے کھڑا کیا تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ احرار کی شدید مخالفت کے باوجود سارا علاقہ ہمارے ساتھ ہے۔باؤنڈری کمیشن کے لئے فراہمی معلومات متحدہ ہندوستان پر انگریزوں نے نوے سال تک حکومت کی۔برصغیر کے باشندوں کی سیاسی جدوجہد کے نتیجہ میں انگریز برصغیر کو آزاد کرنے پر رضامند ہو گئے۔۱۸۸۵ء میں پہلے انڈین نیشنل کانگرس بنی جس میں ہندوؤں کی اکثریت تھی۔اگرچہ کانگرس کا دعویٰ تھا کہ وہ ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں قوموں کی جماعت ہے لیکن مسلمانوں کو محسوس ہوا کہ کانگرس ان کے حقوق کی حفاظت نہیں کر سکتی چنانچہ مسلمانوں نے ۱۹۰۶ء میں اپنی الگ سیاسی جماعت آل انڈیا مسلم لیگ قائم کی۔آل انڈیا مسلم لیگ نے مطالبہ کیا کہ برصغیر میں جہاں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے وہاں ان کا الگ آزاد وطن ہونا چاہئے چنانچہ ۱۹۴۰ء میں لاہور کے مقام پر مسلم لیگ نے قرار داد پاکستان" منظور کی۔اس قرارداد کے بعد قائد اعظم نے مسلمانوں کو متحد کر کے ایسی پر زور مہم چلائی کہ سات سال کے قلیل عرصہ میں ہی انگریزوں اور ہندوؤں کو مسلمانوں کا یہ مطالبہ ماننا پڑا۔تحریک پاکستان میں جماعت احمدیہ نے حضرت المصلح الموعود کی رہنمائی میں بھر پور حصہ لیا۔برطانوی وزیر اعظم اٹیلی نے ۲۰ فروری ۱۹۴۷ء کو اعلان کیا کہ اب تقسیم ملک کے بغیر چارہ نہیں۔انگریز حکومت ہندوستان کے نظم و نسق کے اختیارات ہندوستان کو سپرد کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے اس پر عملدرآمد کا طریق یہ ہو گا کہ حکومت کے اختیارات صوبائی حکومتوں یا کسی متوازی ادارے کے سپرد کر دیئے جائیں گے اور اس طور پر تقسیم کی کارروائی کی تکمیل کی جائے گی۔برطانوی وزیر اعظم نے ۳ جون ۱۹۴۷ء کے بیان میں تقسیم ملک کے منصوبے کا اعلان کر دیا اس کی رو سے طے پایا کہ برصغیر کو دو الگ الگ مملکتوں (پاکستان اور بھارت) میں تقسیم کر دیا جائے گا اس کام کے لئے دو باؤنڈری کمیشن قائم کئے جائیں گے۔حضرت مصلح موعود کی طرف سے پنجاب باؤنڈری کمیشن کے لئے مسلم اکثریتی