حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 172
157 اور یونیورسٹی ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ طلباء اور اساتذہ سے بھر جائے۔لائبریریوں میں کتب اور معیاری رسائل کا انتظام کیا جائے اور لائبریریوں کو جدید تقاضوں کے مطابق آراستہ کیا جائے۔حضور کی اس تقریر کے بعد سارے ایوان کی رائے کچھ اس طرح بدلی کہ وائس انسلر صاحب کو حضور سے عرض کرنی پڑی۔انہوں نے وقفے کے دوران حضور کے سامنے لفظا ہاتھ باندھ کر ادب سے عرض کیا کہ میاں صاحب خدا کے لئے تجویز کی مخالفت نہ فرمائیں یہ صدر صاحب کا حکم ہے۔فیصلہ ہو چکا ہے۔صرف قانونی طور پر سینٹ کی منظوری لی جا رہی ہے۔حضور نے فرمایا کہ میری رائے تو وہی ہے جو پہلے تھی۔اب حکومت کے فیصلے کے خلاف میں نہیں بولوں گا۔۳۵۰ لاہور کے علمی اداروں میں آپ کی مقبولیت اپنی مقناطیسی شخصیت، حسن سلوک اور دیگر اعلیٰ اخلاق اور کالج کی بہترین کارکردگی کے نتیجہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے بہت جلد لاہور کے باقی کالجوں میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کر لی۔پروفیسر چوہدری محمد علی صاحب جنہیں کالج کی ابتداء سے آخر تک حضور کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا لکھتے ہیں۔لاہور کے کالجوں کا عام طالب علم جانتا تھا کہ پرنسپل تعلیم الاسلام کالج کس بلند مرتبہ اور کردار کے انسان ہیں۔دوسرے کالجوں کے پر نسپلوں کی موجودگی میں شوخی کرنے والے حضور کے سامنے ادب سے گفتگو کیا کرتے تھے۔حضور خود بھی تمام طلباء کو بلا تخصیص کالج اپنا عزیز طالب علم جانتے تھے اور ان کے جائز حقوق کی حفاظت کے لئے کوشاں رہتے تھے۔یونیورسٹی گراؤنڈ (اولڈ کیمپس) میں سالانہ کھیل ہو رہے تھے۔حضور ایک کھیل کے نگران اور منصف تھے۔جس جگہ اس کھیل کے مقابلے