حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 154 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 154

139 مصلح موعود بھی اللہ نے اچھی طرح داخل کر دی تھی۔اللہ جانتا ہے ولا فخر۔ہماری جماعت کا مزاج ہے بے لوث خدمت کرنا اور ہر احمدی کا بھی یہی مزاج ہے۔یونیورسٹی کا قاعدہ یہ ہے کہ ایک پرنسپل کل تعداد طلباء کی جو ہے اس کی دس فیصدی کو نصف فیس معاف کر سکتا ہے اور بس یعنی اگر چار سو لڑکا ہو تو صرف چالیس لڑکوں کو آدھی فیس معاف کر سکتا ہے اس سے زیادہ کی نہیں کر سکتا۔مجھے جو حکم تھا وہ یہ تھا کہ ذہین بچے کو پڑھا سکتے ہو پڑھاؤ۔سچی بات یہ ہے کہ کسی سے نہیں پوچھا میں نے کہ یونیورسٹی کا قاعدہ میں توڑنے لگا ہوں توڑ دوں یا نہ توڑوں۔میں نے سوچا جب میرا امام حضرت مصلح موعود بنی اللہ یہ کہہ رہا ہے کہ جس حد تک پڑھا سکتے ہو پڑھاؤ تو میں پڑھاتا جاتا ہوں میں نے سو میں سے پچاس لڑکوں کی فیس معاف کر دی، چار سو میں سے چالیس کی نہیں۔سو میں سے پچاس کی یعنی دس فیصدی کی بجائے پچاس فیصد کی معاف کر دی۔جن میں سے آگے پچاس فیصد وہ طلبہ تھے جن کا احمدیت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔مجھے کہا گیا تھا کہ تعلیم کا ادارہ ہے، تبلیغ کا ادارہ نہیں ہے۔جو غریب لڑکا ذہین بچہ آیا میرے پاس اس کو میں نے داخل کیا نہ صرف اس کی فیس معاف کی۔اس کے کھانے کا انتظام کیا، بعض دفعہ اس کے کپڑوں کا انتظام کیا اس کے علاج کا انتظام کیا۔۔۔۔۔بیسیوں سینکڑے وہ بچے ہمارے جو غریب گھروں میں پیدا ہوئے لیکن خدا تعالیٰ نے ان کو ذہن عطا کیا تھا ان کا جماعت احمدیہ کے عقیدہ سے کوئی تعلق نہیں تھا ان کو ہم نے پڑھایا، ہر طرح سے خیال رکھا، ان سے باپ کی طرح پیار کیا ان کی تربیت کی۔۲۰